زمره
فتوی نمبر
سوال
ایک شخص محمد طارق ولد محمد اشرف فوت ہوا، اس کے ورثا میں بیوہ، دس سال کی ایک بیٹی اور تین بھائی (امجد محمود، محمد ریاض اور محمد خالد) ہیں۔ والدین فوت شدہ ہیں، بہن بھی کوئی نہیں۔ شرعی حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ مرحوم محمد طارق کے ترکہ میں موجود نقد رقم، کمرشل جگہ اور زرعی زمین کی تقسیم مذکورہ بالا ورثا کے درمیان کس طرح ہو؟
جواب
صورت مسئولہ میں مرحوم محمد طارق کے حقوق متقدمہ (تجہیز و تکفین کے اخراجات، ان پر کسی کا قرض ہو تو اس کی ادائیگی اور اگر انہوں نے اپنی حیات میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں اسے نافذ کرنے) کے بعد باقی کل منقولہ و غیر منقولہ ترکہ 8 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو 1 حصہ یعنی کل ترکہ کا (%12.5)، مرحوم کی اکلوتی بیٹی کو 4 حصے یعنی کل ترکہ کا (%50) اور باقی ترکہ مرحوم کے تین بھائیوں میں برابر تقسیم ہوگا، چنانچہ ہر بھائی کو ایک حصہ یعنی کل ترکہ کا (%12.5) از روئے شرع ملے گا۔
