بے قابو جانور کو گولی مار کر قربانی کرنا

زمره
قربانی و عقیقہ
فتوی نمبر
0405
سوال

ہم عید کے دن قربانی کے لیے اپنی بھینس لا رہے تھے، تو وہ راستے میں بے قابو ہو کر بھاگ گئی۔ اس دوران اس نے گاؤں کی گلیوں میں تین بندوں کو شدید زخمی کر دیا۔ وہ بہت زیادہ منتشر ہو گئی تھی اور ہمیں شدید اندیشہ تھا کہ وہ مزید لوگوں کو جانی نقصان نہ پہنچائے۔ حالات کے پیشِ نظر، مجبوراً ہمیں اس پر فائرنگ کرنی پڑی۔ گولی اس کی ٹانگ پر لگی، جس سے وہ گر گئی، اور پھر ہم نے فوراً اسے ذبح کردیا۔ آپ سے رہنمائی درکار ہے کہ کیا ایسی ہنگامی صورتِ حال میں ہماری یہ قربانی شرعی طور پر درست ہو گئی یا نہیں؟ براہِ کرم رہنمائی فرما دیں۔

جواب

اگر جانور بے قابو ہوجائے اور معمول کے مطابق اس کو قابو میں لاکر ذبح کرنے کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو ضرورتاً اسے گولی مار کر زخمی کیا جاسکتا ہے، تاہم گولی لگنے کے بعد اور ذبح ہونے سے پہلے وہ مرجائے تو حلال نہیں ہوگا۔ صورت مسئولہ میں اگر گولی لگنے کے بعد بھینس میں جان باقی تھی اور اسے شرعی طریقے کے مطابق ذبح کرلیا گیا تھا تو قربانی درست ادا ہوگئی۔

مقام
مینگورہ
تاریخ اور وقت
مئی 28, 2026 @ 05:33شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں