میاں بیوی کی طرف سے مشترکہ قربانی کا حکم

زمره
قربانی و عقیقہ
فتوی نمبر
0393
سوال

میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اپنی بیوی کے ساتھ مشترکہ قربانی کرسکتا ہوں کیوں کہ میں اور میری بیوی گھر کے اخراجات مل کر چلاتے ہیں؟

جواب

اسلامی شریعت میں ہر شخص کی ملکیت اور مالی ذمہ داری الگ الگ شمار ہوتی ہے، اسی لیے قربانی بھی انفرادی طور پر واجب ہوتی ہے، نہ کہ پورے گھرانے پر مشترکہ طور پر۔ گھر کے اخراجات مل کر اٹھانے سے قربانی کی ذمہ داری مشترک نہیں ہو جاتی۔
اگر میاں بیوی دونوں صاحبِ نصاب ہوں تو دونوں پر الگ الگ قربانی واجب ہے۔ ایسی صورت میں ایک چھوٹے جانور میں یا بڑے جانور کے ایک حصے میں دونوں کی طرف سے مشترکہ قربانی کافی نہیں ہوگی۔ اگر صرف ایک فریق صاحبِ نصاب ہو تو قربانی صرف اسی پر واجب ہوگی، دوسرے پر نہیں۔
لہٰذا اپنی بیوی کی مالی صورتحال ملاحظہ فرمائیں۔ اگر ان کے پاس زیور، رقم یا سامان اتنا ہے جو نصاب کو پہنچتا ہو تو دونوں کو الگ الگ قربانی دینی ہوگی۔ اگر نصاب کو نہیں پہنچتا تو قربانی صرف آپ پر واجب ہے اور آپ کی قربانی کافی ہوگی۔
واضح رہے کہ اسلامی شریعت میں قربانی ہر اس عاقل، بالغ اور مقیم شخص پر واجب ہے جو صاحبِ نصاب ہو، یعنی جس کی ملکیت میں درج ذیل میں سے کوئی ایک چیز ہو:
(1) ساڑھے باون (52½) تولے چاندی،
(2) ساڑھے سات (7½) تولے سونا،
(3) مذکورہ سونے کی مالیت کے برابر نقدی،
(4) اس مالیت کے برابر مالِ تجارت،
(5) مذکورہ سونے کی مالیت کے برابر ضرورت سے زائد گھریلو سامان۔

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
مئی 22, 2026 @ 06:26صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں