بیرون ملک مقیم شخص کے لیے قربانی کرنا

زمره
قربانی و عقیقہ
فتوی نمبر
0391
سوال

ہمارے ہاں باہر کے ملکوں (مثلاً امریکا، کینیڈا وغیرہ) سے بھی وہاں کے لوگ قربانی کا حصہ رکھتے ہیں۔ امسال اتفاق سے دونوں جگہ عید الاضحیٰ ایک ہی دن ہے۔ چناں چہ جب ہمارے ہاں عید کی صبح ہوگی تو مذکورہ ممالک میں عید سے پہلے کی رات ہوگی۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ :
(1) ان لوگوں کی طرف سے جو قربانی ہم نے یہاں پاکستان میں کرنی ہے، کیا اس کے لیے ان کے اپنے ملک میں بھی قربانی کا دن ہونا ضروری ہے؟
(2) اگر ان کی قربانی ایسے وقت میں کی جائے کہ ان کے ہاں اس وقت سورج طلوع ہوچکا ہو لیکن انہوں نے ابھی عید کی نماز ادا نہ کی ہو، تو کیا اس وقت یہاں ان کی طرف سے قربانی کی جاسکتی ہے؟

جواب

(1)قربانی کے وجوب کے لیے قربانی کا وقت داخل ہونا شرط ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص وقت داخل ہونے سے پہلے قربانی کرلے تو شرعاً اس کی قربانی نہیں ہوگی اور وقت داخل ہونے پر اس پر، دوبارہ قربانی کرنی لازم ہوگی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے فجر کا وقت داخل ہونے سے پہلے اگر کوئی شخص فجر کی نماز پڑھ لے تو اس کی نماز ادا نہ ہوگی کیوں کہ شرعاً اس پر نمازِ فجر فرض ہی نہیں ہوئی، لہذا اس کے لیے فجر کا وقت داخل ہوتے ہی دوبارہ نماز پڑھنا ضروری ہوگا۔ لہذا صورت مسئولہ میں بیرون ملک مقیم شخص اگر پاکستان میں کسی کو اپنا وکیل بنا کر قربانی کرنا چاہے تو ضروری ہے کہ دونوں ممالک میں قربانی کا مشترکہ دن ہو، بصورت دیگر قربانی درست نہ ہوگی۔
(2) شہری علاقوں میں، جہاں نمازِ عید کے باقاعدہ بڑے اجتماعات ہوتے ہیں، وہاں نمازِ عید سے پہلے قربانی کرنا درست نہیں۔ لہذا مسئولہ صورت میں، جب تک بیرونِ ملک مقیم شہری اپنے ہاں عید کی نماز نہ پڑھے لیں، تب تک کسی دوسرے ملک (جیسے پاکستان) میں ان کی طرف سے قربانی کرنا صحیح نہیں ہوگا، بلکہ طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ دونوں جگہوں پر نمازِ عید ہوجانے کے بعد ہی قربانی کا اہتمام کیا جائے۔​

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
مئی 22, 2026 @ 06:19صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں