غیر مسلم کے لیے دعائے مغفرت کرنا

زمره
حظر و اباحت
فتوی نمبر
0416
سوال

میں جس جگہ کام کرتا ہوں، وہاں کے ایچ آر آفیسر (HR Officer) کے چچا کا انتقال ہوا۔ اس پر ان کے انتقال کا اسٹیٹس لگایا گیا تو میں نے "إنا لله وإنا إليه راجعون" لکھا اور مغفرت کی دعا بھی کر دی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مرحوم غیر مسلم تھا، جس کا مجھے علم نہیں تھا۔ اس کے بعد ایک دوست نے بتایا کہ غیر مسلم کے لیے دعائے مغفرت جائز نہیں ہوتی اور بعض اوقات دعا کرنے والے کے لیے سخت احکام بھی بیان کیے جاتے ہیں۔
​براہِ کرم اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائیں کہ:
​(1) اگر کسی کو علم ہو یا لاعلمی میں یہ عمل ہوجائے تو اس کا حکم کیا ہے؟
(2) کیا ایسی صورت میں تجدیدِ ایمان یا تجدیدِ نکاح لازم ہوتا ہے یا نہیں؟​

جواب

دعائے مغفرت صرف اہلِ ایمان کے لیے کی جاتی ہے۔ غیر مسلم یا کافر کے لیے نہیں۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:

مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ(1) 
ترجمہ: نبی ﷺ اور ایمان والوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں، خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جب ان پر یہ واضح ہو جائے کہ وہ جہنمی ہیں۔

صورت مسئولہ میں دعائے مغفرت کی ممکنہ صورتیں اور ان کا حکم:
مذکورہ اصول کی روشنی میں درج ذیل صورتیں ممکن ہیں:

پہلی صورت: لاعلمی کی حالت میں دعا
کسی شخص نے کسی میت کے لیے دعائے مغفرت کی لیکن اسے علم نہیں تھا کہ وہ غیر مسلم تھا۔ ایسے شخص پر نہ کفر کا حکم لگے گا اور نہ تجدیدِ ایمان لازم ہوگی، کیونکہ لاعلمی میں کوئی مؤاخذہ نہیں۔

دوسری صورت: کفر کا علم تھا مگر حکمِ شرعی سے ناواقف تھا
کسی کو معلوم تھا کہ وہ شخص غیر مسلم ہے، لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ غیر مسلم کے لیے دعائے مغفرت شرعاً ناجائز ہے۔ ایسے شخص پر بھی تجدیدِ ایمان لازم نہیں، البتہ اسے آگاہ کیا جائے گا اور آئندہ کے لیے اجتناب ضروری ہے۔

تیسری صورت: کفر کا بھی علم تھا اور حکمِ شرعی کا بھی، پھر بھی جائز سمجھ کر دعا کی
یعنی اس شخص کو پوری طرح معلوم تھا کہ میت کافر ہے اور یہ بھی جانتا تھا کہ ایسی دعا ناجائز ہے، پھر بھی اسے جائز سمجھ کر دعا کی، ایسے شخص پر تجدیدِ ایمان لازم ہے اور اگر وہ شادی شدہ ہے تو تجدیدِ نکاح بھی ضروری ہے۔

چوتھی صورت: جائز نہ سمجھا لیکن بے احتیاطی یا جذبات میں دعا کر دی
یعنی کسی نے حکمِ شرعی جانتے ہوئے اسے ناجائز بھی سمجھا، مگر غفلت، جذباتی کیفیت یا سماجی دباؤ میں ایسی دعا کر دی تو یہ گناہ ہے، تجدیدِ ایمان لازم نہیں، البتہ توبہ واستغفار ضروری ہے۔

پانچویں صورت: مجبوری یا تقیہ کی حالت میں دعا
کسی نے خوف یا مجبوری کے تحت ظاہری طور پر ایسے الفاظ کہے مگر دل میں اسے جائز نہیں سمجھا تو اگر دل میں اعتقاد نہ تھا تو تجدیدِ ایمان لازم نہیں، تاہم ایسے مواقع سے حتی الامکان اجتناب ضروری ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ تجدیدِ ایمان صرف اسی صورت میں لازم ہوتا ہے جب دعائے مغفرت علم، ارادے اور جواز کے اعتقاد کے ساتھ کی گئی ہو۔ لاعلمی، غفلت یا مجبوری کی صورتوں میں حکم مختلف ہوتا ہے۔

فقط واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب


(1) 9-التوبہ: 113

مقام
ملتان
تاریخ اور وقت
مئی 22, 2026 @ 02:52شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں