عقیقہ کے متفرق مسائل

زمره
قربانی و عقیقہ
فتوی نمبر
0388
سوال

مجھے عقیقہ سے متعلق چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

1۔ عقیقہ کرنا واجب ہے یا سنت؟

2۔ بچے اور بچیوں کی طرف سے عقیقے کا ایک ہی حکم ہے یا علاحدہ علاحدہ؟

3۔ عقیقہ مشہور یہ ہے کہ ایک جان دینا ضروری ہے۔ کیا ایک بڑے جانور میں عقیقے کی نیت سے حصص نہیں رکھے جاسکتے؟

4۔ عقیقہ کرنے کا مسنون وقت کون سا ہے؟

5۔ اگر ماں باپ کا خود عقیقہ نہ ہوا ہو تو کیا وہ اپنی اولاد کا عقیقہ ادا کرسکتے ہیں یا نہیں؟

6۔ عقیقہ ادا کرنے میں قربانی کی طرح جانوروں کی عمر کا اعتبار کرنا کیا ضروی ہے؟

7۔ کیا بچے کے بالغ ہونے کے بعد بھی اس کا عقیقہ دیا جاسکتا ہے؟

8۔ کیا اگر کوئی شخص بغیر عقیقہ کے فوت ہوجائے، اس کا عقیقہ مرنے کے بعد بھی دیا جاسکتا ہے؟

جواب

1۔ عقیقہ کرنا واجب نہیں، سنت ہے۔ اگر وسعت ہو تو عقیقہ کرنا اولیٰ ہے۔

2،3۔ عقیقے میں لڑکے کی طرف سے دو بکرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکرا افضل ہے یا بڑے جانور میں لڑکے کی طرف سے دو حصے اور لڑکی کی طرف سے ایک حصہ مستحب ہے۔ اگر کوئی دو حصوں کی وسعت نہ رکھے تو لڑکے کی طرف سے بھی ایک چھوٹا جانور یا بڑے جانور میں سے ایک حصہ دیا جاسکتا ہے۔

4۔ عقیقہ ادا کرنے کا مستحب وقت بچے کی پیدائش کے بعد ساتویں روز ہے۔ا گر ساتویں روز کوئی عقیقہ نہ کرسکا تو چودھویں روز یا اکیسویں روز عقیقہ کردے۔ اگر مندرجہ بالا ایام کے علاوہ عقیقہ ادا کیا تو عقیقہ ہوجاتا ہے، مگر مستحب عمل نہیں رہتا۔

5۔ اگر ماں باپ کا عقیقہ نہ ہوا ہو، تب بھی وہ اپنی اولاد کا عقیقہ دے سکتے ہیں۔

6۔ عقیقے کا حکم قربانی کی مانند ہے۔ یعنی جو شرائط قربانی کے جانور میں ضروری ہیں (مثلاً گائے، بیل اور بھینس وغیرہ کی عمر دو سال، بکرا بکری وغیرہ کی عمر ایک سال، اونٹ کی عمر پانچ سال)، وہی شرائط عقیقے کے جانور کے لیے بھی ضروری ہیں۔ اسی طرح دُنبہ / چھترا قربانی کی طرح چھ ماہ کا دیا جاسکتا ہے، جب کہ سال والوں کے برابر ہو۔

7۔ عقیقہ ادا کرنے میں وقت کی کوئی شرط نہیں۔ زندگی بھر میں جب بھی عقیقے کی گنجائش ہو، اُسی وقت عقیقہ کیا جاسکتا ہے۔

8۔ اگر کوئی شخص بغیر عقیقہ ادا کرنے کے فوت ہوجائے تو اس کے مرنے کے بعد بھی اس کی طرف سے عقیقہ کیا جاسکتا ہے

مقام
حافظ آباد
تاریخ اور وقت
مئی 21, 2026 @ 06:13شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں