قسموں کے متفرق مسائل

زمره
اَیمان و نذور
فتوی نمبر
0457
سوال

1۔ میں نے ایک ہی معاملے پر ایک ہی قسم بار بار کھائی؟ جیسے یہ کہا کے ”میں اللّٰہ کی قسم کل لاہور جاؤں گا، میں اللّٰہ کی قسم کل لاہور جاؤں گا“ اس طرح کئی بار کہا۔ اسی طرح مختلف اوقات میں بھی کہا کہ مثلاً ظہر کے بعد کہ اللہ کی قسم میں لاہور جاؤں گا، اسی طرح عصر اور پھر مغرب کے بعد بھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر میں کل لاہور نہ گیا تو قسم کتنی قسموں کا کفارہ میرے اوپر لازم آئے گا؟
2۔ مختلف امور پر قسم کھائی، مثلاً کہا کہ ”اللہ کی قسم میں کل رات کام پر نہیں جاؤں گا“، پھر کہا کہ ”میں کل رات تک چائے بھی نہیں پیوں گا“۔

جواب

(1) ایک ہی بات پر کئی بار یا مختلف اوقات میں قسمیں کھائیں تو حانث ہونے (قسم توڑنے) کی صورت میں ایک ہی کفارہ سب کی طرف سے کافی ہوجائے گا۔ لہذا صورت مسئولہ میں کل لاہور نہ جانے کی صورت میں قسم اٹھانے والا حانث (قسم توڑنے والا) تصور ہوگا اور اس پر ایک ہی قسم کا کفارہ لازم آئے گا۔
​ جیسا کہ کفایت المفتی میں ہے:
​ ایک امر پر چند قسموں سے ایک ہی کفارہ کافی ہو جاتا ہے۔ (کتاب الیمین والنذور، 2/198)

​(2) مختلف امور پر کھائی جانے والی قسمیں الگ الگ شمار ہوں گی۔ چنانچہ اگر کوئی شخص مختلف معاملات پر قسمیں کھائے اور ان سب میں حانث (قسمیں توڑنے والا) ہوجائے، تو ہر قسم کا الگ کفارہ لازم آئے گا۔ صورت مسئولہ میں قسم کھانے والا اگر کل رات کام پر گیا اور کل رات تک کسی بھی وقت چائے بھی پی لی تو وہ دونوں قسموں میں حانث قرار پائے گا اور اس پر دو الگ الگ کفارے لازم ہوں گے۔ تاہم اگر اس نے دونوں قسموں میں سے کوئی ایک قسم توڑی تو صرف اسی ایک قسم کا کفارہ واجب الادا ہوگا۔

قسم کا کفارہ
​قسم ٹوٹنے یا توڑنے کفارہ یہ ہے کہ وہ شخص (1) دس مساکین کو صبح و شام ( دو وقت) کا کھانا اس درمیانے درجے کی سطح کا کھلائے جو عام طور پر وہ اپنے گھر والوں کو کھلاتا ہے، یعنی اس کھانے میں نہ تو تکلف اور اسراف ہو اور نہ ہی بخل و تنگی ہو، اس کی مقدار کا تعین صدقہ فطر کی مقدار کے مطابق کیا گیا ہے، یعنی پونے دو کلو گندم یا ساڑھے تین کلو جَو یا کھجور، یا کشمش (لہذا متعلقہ شخص اپنی مالی حیثیت کے مطابق فیصلہ کرے گا، نیز وہ ان کی جگہ ان کی اس وقت کی بازاری قیمت بھی دے سکتا ہے ، اسی طرح ایک مسکین کو بھی دس دن دونوں اوقات کا کھانا کھلایا جاسکتا ہے یا قیمت دی جاسکتی ہے) یا (2) دس مساکین کو اپنی حیثیت کے مطابق اوسط درجہ کا سِلے یا ان سِلے کپڑوں کا ایک ایک جوڑا دے(۔(مسکین وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو ،اور شدید فقر اور بدحالی کا شکار ہو، ۔ اسی طرح وہ شخص بھی مسکین شمار ہوگا جس کے پاس معمولی سی چیز موجود ہو، مگر وہ شرعی نصاب کا مالک نہ ہو اور اپنی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو۔)
(3) اگر وہ ان دونوں (کھانا کھلانے اور کپڑوں کے جوڑے دینے) کی مالی استطاعت نہیں رکھتا، تو بطور کفارہ تین روزے رکھے جو مسلسل (بلا ناغہ) ہوں۔

مقام
Karachi
تاریخ اور وقت
مئی 21, 2026 @ 05:14شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں