والد، شوہر، دو بیٹوں، ایک بیٹی اور بہن بھائیوں میں تقسیم ترکہ

زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0383
سوال

ایک عورت فوت ہوئی جس کے ورثا میں باپ (جوکہ بیٹی کی وفات کے بعد فوت ہوا)، شوہر، دو بیٹے، ایک بیٹی، تین بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ میراث کی تقسیم کیسے ہوگی؟

جواب

​صورت مسئولہ میں مرحومہ کے حقوق متقدمہ کی ادائیگی (تجہیز و تکفین کے اخراجات، اگر قرض ہو تو اس کی ادائیگی اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت ہو تو ایک تہائی میں اسے نافذ کرنے) کے بعد کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کے 60 حصے کریں گے، جن میں سے مرحومہ کے والد کو 10 حصے (%16.67)، شوہر کو 15 حصے (%25)، مرحومہ کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک 14 حصے (%23.33)، جب کہ بیٹی کو 7 حصے(%11.67) از روئے شرع ملیں گے۔ مرحومہ کے والد مرحوم کا حصہ ان ورثا کے درمیان شرعی حصص کے اعتبار تقسیم ہوگا، جب کہ مرحومہ کے بہن بھائی میراث سے محروم ہوں گے۔

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
مئی 18, 2026 @ 05:39شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں