موزوں پر مسح کے لیے ٹخنوں کا چھپا ہوا ہونا ضروری ہے

زمره
طہارت و پاکیزگی
فتوی نمبر
0381
سوال

(1) کیا ایسے موزوں پر مسح کرنا جائز ہے جو ٹخنوں سے نیچے تک ہوں اور ٹخنے کھلے رہتے ہوں؟
(2) اگر جائز نہیں تو کیا مسح کے لیے یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ پہلے عام جرابیں پہن لی جائیں جس سے ٹخنے ڈھک جائیں اور پھر ان کے اوپر یہ موزے پہن کر مسح کیا جائے؟

جواب

(1) مسح چونکہ پاؤں دھونے کا بدل ہے، اس لیے جس طرح وضو میں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا فرض ہے، بالکل اسی طرح موزوں پر مسح بھی صرف اسی صورت میں جائز ہوگا جب وہ ٹخنوں سمیت پورے پاؤں کو گھیرے ہوئے ہوں۔ لہذا جو موزے ٹخنوں سے نیچے ہوں، ان پر مسح شرعاً جائز نہیں بلکہ وضو کی تکمیل کے لیے انہیں اتار کر پاؤں دھونا لازم ہے۔
(2) جو چیز پورے پاؤں کے لیے مسح کا بدل نہیں بن سکتی، وہ اس کے کسی حصے کے لیے بھی قائم مقام نہیں ہو سکتی۔ لہذا، جب عام جرابوں پر پورے پاؤں (کل) کا مسح جائز نہیں، تو اس کے کسی ایک حصے (جز) یعنی ٹخنوں کا مسح بھی جائز نہ ہوگا۔​

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
مئی 16, 2026 @ 05:51شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں