شوہر اور بیوی کے درمیان طلاق کی تعداد میں اختلاف ہوجائے تو کس کی بات معتبر ہوگی؟

زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0379
سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ شوہر نے کمرے میں بیوی سے کہا ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“۔ بیوی کا بیان ہے کہ شوہر نے یہ جملہ دو مرتبہ کہا، جبکہ شوہر کا کہنا ہے کہ ” میں نے مذکورہ بالا جملہ صرف ایک مرتبہ ہی کہا، البتہ دروازے پر جا کر بیوی سے یہ بھی کہا کہ ”تو میری طرف سے فارغ ہے“۔ اب میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ شرعاً رہنمائی فرمائی جائے کہ مذکورہ بالا الفاظ سے کل کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ اور اب شریعتِ مطہرہ کی رو سے میاں بیوی کے لیے رجوع کرنے کا درست طریقہ کار کیا ہوگا؟

جواب

(1) شوہر کے پہلی مرتبہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ کہنے سے بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی تھی۔ اس کے بعد شوہر کا یہ کہنا کہ: ”تو میری طرف سے فارغ ہے“ اگر طلاق کی نیت سے تھا، تو اس سے مزید ایک طلاق، طلاقِ بائن واقع ہوگئی۔ اس صورت میں مجموعی طور پر دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔
​چونکہ دوسری طلاق، طلاقِ بائن ہے، اس لیے اب محض رجوع کافی نہیں ہوگا، بلکہ اگر دونوں دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کرنا ضروری ہوگا۔
​(2) اگر ”تو میری طرف سے فارغ ہے“ کے الفاظ شوہر نے طلاق کی نیت کے بغیر کہے تھے، تو اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اور صرف ایک طلاقِ رجعی شمار ہوگی، اس کے بعد رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر اپنی زبان سے "میں رجوع کرتا ہوں " کہہ دے۔
​(3) جہاں تک بیوی کے بیان کا تعلق ہے تو اگر اس کے پاس اپنے بیان (کہ شوہر نے ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ کے الفاظ دو مرتبہ کہے تھے) کو ثابت کرنے کے لیے دو شرعی گواہ نہ ہوں تو ایسی صورت میں شوہر اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر قسم کے ساتھ یہ کہے کہ اس نے ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ کے الفاظ صرف ایک ہی مرتبہ کہے تھے تو شرعاً شوہر کی بات معتبر سمجھی جائے گی۔
(4) اگر بیوی دو گواہوں کے ذریعے اپنی بات ثابت کردے یا شوہر قسم اٹھانے کے لیے تیار نہ ہو تو شرعاً تین طلاقوں کا حکم دیا جائے گا (بشرطیکہ شوہر نے ”تو میری طرف سے فارغ ہے" کے الفاظ طلاق کی نیت سے کہے ہوں) اور بیوی اپنی عدت گزارنے کے بعد کسی اور جگہ نکاح کرنے کی مجاز ہوگی۔​

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
مئی 15, 2026 @ 01:59شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں