قربانی کرنے والے کے لیے بال اور ناخن نہ کاٹنے کا حکم

فتوی نمبر
0394
سوال

ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے والا شخص اپنے بال اور ناخن کاٹے تو اس کی قربانی ہوگی یا نہیں؟ اور کیا وہ گناہ گار بھی ہوگا یا کہ نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد بال یا ناخن وغیرہ کاٹ لے، تو اس کی قربانی درست ہے۔ قربانی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا اور وہ گناہ گار بھی نہیں ہوگا۔ البتہ بہتر اور مستحب یہ ہے کہ قربانی کرنے والا یکم ذی الحجہ سے قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
​جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
​مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعَرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ
​(جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھ لے اور قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ نہ کاٹے)(1)


(1) سنن ترمذی٬ (بیروت، دار الغرب الاسلامی) أبواب الأضاحي، باب ترك أخذ الشعر لمن أراد أن يضحي، 182/3، رقم: 1523

مقام
منگورہ
تاریخ اور وقت
مئی 14, 2026 @ 03:18شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں