زمره
فتوی نمبر
سوال
اگر کسی شخص کی ذاتی ملکیت کی جگہ ہو اور وہ وہاں سے لوگوں کی سہولت کی خاطر آمد و رفت کے لیے راستہ دے، مگر وہاں سے گزرتے کچھ لوگ شرارت کریں اور اس مالک کی ملکیت کو نقصان پہنچانے لگیں تو بتائیں کہ مالک اب کیا کرے؟ راستہ بند کرے یا پھر ملکیت چھوڑ دے؟
جواب
شریعت مطہرہ میں ذاتی ملکیت کا تحفظ ایک بنیادی اصول ہے۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه“(1)
(خبردار! کسی پر ظلم نہ کرو، یاد رکھو! کسی مسلمان کا مال اُس کی خوش دلی اور رضا کے بغیر حلال نہیں۔)
لہٰذا جب مالک نے عوامی مَصلَحت کے تحت لوگوں کو راستہ دے دیا تو یہ اس کا احسان اور تبرع (بغیر مطالبہ اور قیمت کی وصولی کے، محض رضائے الٰہی کے لیے، نیکی کا حصول) تھا، کوئی لازمی ذمہ داری نہیں تھی۔ جب لوگ اس احسان کا غلط فائدہ اٹھائیں اور نقصان پہنچائیں تو مالک کو شرارت کے انسداد اور اپنی ملکیت کے تحفظ کا پورا حق حاصل ہے۔ وہ اس کے لئے قانونی اور سماجی اِقدامات کرسکتا ہے۔ اسلامی شریعت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ:
”لا ضَرَرَ ولا ضِرَارَ“ (2)
(نہ نقصان اٹھاؤ اور نہ نقصان دو)
اس فقہی اصول کی روشنی میں مالک کے لیے یہ ترتیب مناسب ہے کہ : سب سے پہلے شرارت کرنے والوں کو اہلِ محلہ و علاقہ کی مدد سے سمجھایا جائے پھر تنبیہ کی جائے، اگر اس سے فائدہ نہ ہو تو راستے کے استعمال کے لیے کچھ شرائط اور پابندیاں عائد کر دی جائیں۔ اگر پھر بھی نقصان جاری رہے تو راستہ مکمل بند کرنا شرعاً جائز ہے کیونکہ شریعت نے تحفظِ ملکیت کو حق قرار دیا ہے۔ اور جن لوگوں نے نقصان پہنچایا ہے وہ شریعت کی رو سے ضَمان ( تاوان) کی ادائیگی کے ذمہ دار ہیں اور مالک ان سے نقصان کے تدارک کا حق رکھتا ہے۔
البتہ اگر راستہ بند کرنا نَزاع، فساد اور دیگر لوگوں کے لیے مَشقت کا باعث بنے تو ایسی صورت میں عوامی ضرورت کے پیش نظر اپنی ملکیت کا وہ حصہ مستقل گزرگاہ کے لیے وقف کیا جا سکتا ہے (کہ ایسا نہ ہو قصور چند لوگوں کا ہو اور بھگتنا سب کو پڑے) کیونکہ اسلام میں ایثار اور عوامی بھلائی کے امور بڑے اجر وثواب کا ذریعہ ہیں۔
(1) مشکوۃ المصابیح، (بیروت، المکتبۃ الاسلامی)، کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ، الفصل الثانی، 889/2، رقم :2946
(2) سنن ابن ماجہ، (بیروت، دار احیاء الکتب العربیۃ)، کتاب الاحکام، باب ؛ من بنى في حقه ما يضر بجاره، 784/2، رقم : 2341
