زمره
قربانی و عقیقہ
فتوی نمبر
0436
سوال
(1) اگر کسی لڑکے کا عقیقہ اس کے والدین نے بچپن میں نہ کیا ہو اور وہ بالغ ہونے کے بعد شادی کر لے، تو اب عقیقہ کرنا کس پر لازم ہوگا؟ والدین پر، یا خود اس لڑکے پر؟
(2) اگر کسی لڑکی کا عقیقہ بچپن میں نہ کیا گیا ہو اور بعد میں اس کی شادی ہو جائے، تو اب کیا اس کا عقیقہ شوہر کرسکتا ہے؟
جواب
(1) بلوغت کے بعد یا اس سے پہلے والدین کے لیے اولاد کا یا اولاد کا اپنی طرف سے عقیقہ کرنا لازم اور ضروری نہیں ہے بلکہ مستحب اور باعثِ اجر و ثواب ہے۔ لہذا شادی کے بعد اگر والدین اپنی اولاد کا عقیقہ کرنا چاہیں یا کوئی شخص خود اپنی طرف سے عقیقہ کرنا چاہے تو بھی اجر و ثواب سے خالی نہیں۔
(2) شوہر اپنی بیوی کی طرف سے عقیقہ کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔
مقام
ہارون آباد
تاریخ اور وقت
مئی 11, 2026 @ 10:02صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
