اجتماعی زوال کا ایک بنیادی سبب عورت کو محکوم سمجھنا ہے

زمره
حقوق و آداب معاشرت
فتوی نمبر
0376
سوال

ایک شادی شدہ خاتون اپنے شوہر کے مسلسل ظلم و تشدد کا شکار ہے اور اب شوہر اسے رکھنے کے بجائے طلاق دینے پر بضد ہے۔ جب کہ سسرال والے بھی اس معاملے میں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ خاتون اس وقت تین ماہ کے حمل سے ہے اور ذہنی طور پر شدید دباؤ کا شکار ہے، جس کی وجہ سے والدین پریشان ہیں کہ کیا اس نازک صورتحال اور مستقبل میں دوسری شادی کے امکانات اور بچے کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے تین ماہ کے اس حمل کو ضائع کرنے کی شرعی اجازت حاصل ہے؟

جواب

ہمارے معاشرے کے زوال کا ایک اہم اور ناقابلِ تردید سبب عورت کو کمتر اور حقیر سمجھ کر اس کے ساتھ ناروا سلوک کرنا ہے۔ حالانکہ عورت خاندان، معاشرے اور تہذیب کی بنیاد ہے۔ اس کی تحقیر در حقیقت پوری نسل اور سماج کی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔
​حضرت مولانا عبید اللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”ہمارے ہاں یہ ہوا کہ ہم نے اپنی بیویوں کو محکوم بنایا اور انہیں ذلیل سمجھا، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے گھروں کی فضا محکومی اور ذلت سے آلودہ ہو گئی ہے، ہم اس فضا میں سانس لیتے ہیں اور ہمارے بچے اسی میں پلتے ہیں۔
​ چنانچہ ہماری اس گھریلو زندگی کا اثر ہماری پوری زندگی پر پڑا۔ جس طرح ہم نے گھر کے اندر اپنی عورتوں کو ذلیل اور محکوم سمجھا، اسی طرح ہم گھر کے باہر خود بھی ذہنی، اخلاقی اور نفسیاتی طور پر محکوم اور ذلیل ہو گئے، اور ہماری نسل اسی سانچے میں ڈھلتی چلی گئی۔
​ سچ پوچھو تو ہماری موجودہ قومی پستی، جمود، بے ضمیری اور عدم استقامت کا ایک بڑا حصہ ہماری اس گھریلو زندگی کی وجہ سے ہے۔“
صورتِ مسئولہ:
​اگر شوہر کی طرف ظلم و تشدد کے الزامات حقیقت پر مبنی ہیں تو سب سے پہلے اصلاح اور صلح کی بھرپور کوشش کی جائے۔ خاندان کے سمجھدار، معزز اور بااثر افراد کو درمیان میں لا کر معاملہ سلجھانے کی کوشش کی جائے تاکہ شوہر اپنے رویے سے باز آجائے اور گھر بکھرنے سے بچ جائے۔ شریعتِ مطہرہ میں جہاں تک ممکن ہو نباہ اور اصلاح کو ترجیح دی جاتی ہے۔
​اگر تمام کوششوں کے باوجود شوہر کا رویہ نہ بدلے اور باہمی زندگی ناممکن ہو جائے تو شوہر کو چاہیے کہ ایک طلاقِ رجعی دے کر بیوی کو علیحدہ کر دے تاکہ معاملہ وقار کے ساتھ ختم ہو۔ اس کے بعد عورت عدت گزارے گی۔ چونکہ وہ حاملہ ہے، اس کی عدت بچے کی پیدائش تک ہوگی۔ عدت کے بعد وہ دوسری شادی کرنے کی مجاز ہوگی۔
​عدت گزارنے کا اصل حکم یہ ہے کہ عورت شوہر کے گھر میں ہی عدت گزارے۔ البتہ اگر شوہر اسے گھر میں رکھنے یا نان و نفقہ دینے سے انکار کر دے تو وہ سخت گناہ گار ہوگا۔ ایسی صورت میں عورت اپنے والدین کے گھر عدت گزار سکتی ہے۔
اسقاطِ حمل کا حکم:
​اس تمام صورتحال میں حمل ضائع کرنے (اسقاطِ حمل) کی قطعی اجازت نہیں۔ حمل اللہ تعالیٰ کی امانت اور خاص بخشش ہے۔ ہر بچے کا رزق اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی مقرر فرما دیا ہوتا ہے۔ لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامیں، اس کا حوصلہ بڑھائیں، اس کی دلجوئی کریں اور اسے صبر، حوصلہ اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے کی تلقین کریں۔ مایوسی اور خوف کی بجائے اللہ کی رحمت پر اعتماد رکھیں۔
​اللہ تعالیٰ اس خاتون کو اور اس کے بچے کو سلامت رکھے اور ان کے لیے آسانی پیدا فرمائے۔ آمین۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب​

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
مئی 10, 2026 @ 06:21صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں