زمره
فتوی نمبر
سوال
غیر صاحبِ نصاب نے صاحبِ نصاب کے ساتھ مل کر قربانی کے لیے بڑا جانور خریدا، جانور گم ہو گیا تو دوسرا جانور خرید لیا گیا۔ قربانی کے دنوں سے پہلے، پہلا جانور بھی مل گیا۔ اب کس جانور کی قربانی کی جائے؟ پہلے کی، دوسرے کی، دونوں کی؟
جواب
(1) اگر صاحبِ نصاب کا قربانی کا جانور گم ہو جائے اور اس نے دوسرا جانور خرید لیا، پھر قربانی کے دنوں سے پہلے پہلا جانور بھی مل گیا تو اسے اختیار ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک کی قربانی کرے۔ البتہ اگر پہلے جانور کی قیمت دوسرے سے زیادہ ہو تو زائد رقم کسی مستحق کو صدقہ کر دے۔
(2) اگر غیر صاحبِ نصاب کا جانور گم ہو جائے اور اس نے دوسرا خرید لیا، پھر پہلا بھی مل گیا تو اصلاً اس پر دونوں کی قربانی لازم ہوگی۔ تاہم اگر دوسرا جانور خریدتے وقت اس کی نیت یہ تھی کہ یہ پہلے گم شدہ جانور کا بدل ہے تو پھر اسے بھی دونوں میں سے کسی ایک کی قربانی کا اختیار ہوگا۔
(3) سوال میں مذکور صورت یہ ہے کہ دونوں جانور صاحبِ نصاب اور غیر صاحبِ نصاب کے درمیان مشترک ہیں۔ اس صورت میں دونوں مل کر کسی ایک جانور کی قربانی کر دیں جس سے صاحبِ نصاب کی واجب قربانی ادا ہو جائے گی۔
غیر صاحبِ نصاب کے حق میں حکم یہ ہے کہ اگر اس نے دوسرا جانور خریدتے وقت یہ نیت کی تھی کہ یہ پہلے کا بدل ہے تو ایک ہی قربانی کافی ہوگی اور اگر نیت نئے سرے سے قربانی کرنے کی تھی تو اسے دوسرے جانور کی بھی قربانی کرنی ہوگی۔
اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ غیر صاحبِ نصاب دوسرے جانور میں بھی صاحبِ نصاب کو اس کی رضامندی سے شریک کر لے۔ اس طرح صاحبِ نصاب کی طرف سے نفلی قربانی ادا ہو جائے گی، قیمت کے فرق کی صورت میں لازم ہونے والا صدقہ بھی ساقط ہو جائے گا اور دونوں کا ذمہ بری ہو جائے گا۔ اگر یہ صورت ممکن نہ ہو تو غیر صاحبِ نصاب خود دوسرے جانور کی بھی قربانی کرے اور اس میں صاحبِ نصاب کا حصہ اسے ادا کر دے۔
