مسوڑھوں سے خون آنے کی صورت میں وضو کا حکم

زمره
طہارت و پاکیزگی
فتوی نمبر
0371
سوال

اگر وضو کے دوران یا بعد میں مسوڑھوں سے خون آرہا ہو اور اسی وقت جماعت بھی کھڑی ہو جائے تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب

اگر مسوڑھوں سے نکلنے والا خون تھوک پر غالب ہو جائے (یعنی تھوک سرخی مائل ہو جائے) تو اس صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے نیا وضو کر کے نماز میں شامل ہونا ضروری ہے۔ اور اگر خون تھوک پر غالب نہ ہو تو وضو نہیں ٹوٹتا، ایسی حالت میں انفرادی طور پر یا جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا درست ہے۔
نیز اگر کسی شخص کے مسوڑھوں سے مسلسل خون آتا رہتا ہو اور اتنی مہلت بھی نہ ملے کہ وہ وضو کر کے فرض نماز ادا کر سکے تو وہ شرعاً معذور شمار ہوگا۔ ایسا شخص ہر نماز کے وقت میں نیا وضو کر کے اسی حالت میں نماز ادا کر سکتا ہے، اور اس کا وضو اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک اس نماز کا وقت باقی ہے۔ وقت ختم ہوتے ہی وضو ٹوٹ جائے گا۔
البتہ اگر صورتِ حال یہ ہو کہ درمیان میں اتنا وقت مل جاتا ہے جس میں خون رک جاتا ہے اور وہ بآسانی وضو کر کے فرض نماز ادا کر سکتا ہے تو پھر وہ شرعی معذور نہیں ہوگا، بلکہ جس وقت مسوڑوں سے خون آنا بند ہو جائے یا تھوک پر خون کا غلبہ نہ رہے تو اس وقت نماز پڑھنا ضروری ہوگا۔​

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
مئی 07, 2026 @ 06:11شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں