سیاہ کاری (کارو کاری) الزام کے تحت عورتوں کا بہیمانہ قتل

زمره
حدود و دیات
فتوی نمبر
0365
سوال

ہمارے رواج کے مطابق سیاہ کاری (کارو کاری) کا الزام ایک نہایت سنگین اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے، جو صرف اور صرف شوہر کی طرف سے لگایا جا سکتا ہے اور کسی دوسرے رشتہ دار کا الزام اس درجے میں معتبر نہیں سمجھا جاتا۔ شوہر کی طرف سے لگایا گیا یہ الزام عورت کے حق میں ایسا قطعی اور آخری فیصلہ تصور کیا جاتا ہے کہ اسے کسی صورت رد نہیں کیا جا سکتا، حتیٰ کہ اس کے لیے کسی قسم کے گواہوں کی ضرورت بھی نہیں ہوتی، بلکہ محض شوہر کا شک بھی یقین کامل کے درجے میں قبول کر لیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں عورت کو مکمل طور پر بے اختیار اور مجبور محض سمجھا جاتا ہے اور اس کی صفائی یا مؤقف کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس رسم کے تحت فوری طور پر فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کرنے کا رواج پایا جاتا ہے۔ مزید برآں، اگر کسی سبب سے قتل نہ بھی ہو تو میاں بیوی کے درمیان ہمیشہ کے لیے جدائی واقع ہو جاتی ہے، اور اس عورت کا اسی قبیلے میں دوبارہ نکاح بھی ممنوع سمجھا جاتا ہے۔
اس تفصیل کے بعد درج ذیل سوالات پر شرعی رہنمائی فرمائیں کہ:
(1) جس عورت پر سیاہ کاری کا الزام لگایا جاتا ہے، کیا اس کے لیے دوسری شادی سے پہلے اپنے سابقہ شوہر سے باقاعدہ طلاق لینا ضروری ہے یا نہیں؟ کیوں کہ ہمارے ہاں اس واقعے کو طلاق سے تعبیر کیا جاتا ہے اور شوہر سے طلاق لینا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔
(2) اگر اسی طریقۂ کار کے مطابق کسی مرد پر اپنی ساس کے ساتھ سیاہ کاری کا الزام لگ جائے، تو کیا اس کی بیوی اس پر شرعاً حرام ہو جاتی ہے؟
(3) سیاہ کاری سے متعلق قتل از روئے شرع کیا حیثیت رکھتا ہے؟

جواب

​خاندانی زندگی میں میاں بیوی کا رشتہ انسانی سماج کی بنیادی اکائی ہے اس میں خرابی پیدا ہونا پورے معاشرے کے بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ لہذا اس کو توڑنے اور بگاڑ پیدا کرنے والی ہر سازش اور حربے کو شریعت نے ناجائز اور حرام قرار دیا ہے۔
​سیاہ کاری کے مسئلے کے تحت مذکورہ بالا تمام مسائل اس ظالمانہ معاشرے کی فرسودہ روایات ہیں۔ خود ساختہ قبائلی قوانین کے تحت خود ہی جرم کی تعیین کرنے، غیرت کے نام پر انسانی عزتوں کو پامال کرنے، وحشیانہ طریقے سے ان کی جانوں سے کھلواڑ کرنے اور محض شک و شبہ کی بنیاد پر ان کو موت کی بھینٹ چڑھا دینے کی کسی بھی صورت اجازت نہیں۔ ایسے سفاک اور درندہ صفت معاشروں کو معصوم اور بے گناہ عورتوں کے حقوق کے بارے میں اللہ رب العالمین کے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔
​(1) پہلے خاوند سے طلاق لیے بغیر دوسرے مرد کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً حرام ہے اور نہ ہی وہ نکاح منعقد ہوتا ہے لہذا دوسری شادی کے لیے ضروری ہے کہ پہلا خاوند طلاق دے۔
​(2) کسی مرد کی اپنی ساس کے ساتھ ناجائز تعلق کی شرعی طریقہ پر تصدیق ہوجائے تو داماد کی بیوی اس پر ہمیشہ حرام ہو جائے گی۔ محض الزام لگنا کافی نہیں۔
​(3) جب چار مرد گواہ واضح طور پر اس فعل میں مرد و عورت کو مبتلا دیکھنے کی شہادت دیں یا زانی خود عدالت میں چار مرتبہ اس کا اقرار کرے تو ان پر عدالت کی طرف سے حد لاگو ہوگی۔ نیز حدود کا نفاذ حکومت اور عدالت کا کام ہے ہر کس و ناکس کو اس کی اجازت نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب​​

مقام
سبی
تاریخ اور وقت
مئی 07, 2026 @ 03:20شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں