ووٹ دینے پر طلاق کو معلق کرنے کا حکم

زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0397
سوال

محترم مفتی صاحب! عرض یہ ہے کہ گلگت میں رواں ماہ الیکشن ہو رہا ہے۔ ایک خاندان میں دو بھائی ہیں۔ بڑے بھائی کا ایک دوست الیکشن میں امیدوار ہے۔ چھوٹے بھائی نے اس بات پر اپنی بیوی کو طلاق معلق کرتے ہوئے کہا "اگر میں اس شخص کو ووٹ دوں تو تین شرائط کے ساتھ میری بیوی طلاق ہے۔" تین شرائط سے مراد ہمارے ہاں تین طلاق لی جاتی ہیں۔ اب مسئلہ یہ درپیش ہے کہ چھوٹا بھائی سرکاری ملازم ہے اور اس کا ووٹ بیلٹ پیپر کے ذریعے ڈالا جاتا ہے۔ خاندان کے باہمی تعلقات اس وقت خوش گوار ہیں، لیکن اگر وہ بڑے بھائی کے کہنے کے مطابق اس کے دوست کو ووٹ نہ دے تو خاندانی نظام کے درہم برہم ہونے کا خدشہ ہے۔ ایسی صورت میں جب کہ خاندان کو بھی بچانا مقصود ہو اور ازدواجی زندگی کو بھی برقرار رکھنا ہو، شریعت کی روشنی میں کیا کوئی جائز صورت (حیلہ) موجود ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں متعلقہ شخص کو ووٹ دینے کی صورت میں بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ طلاق سے بچنے کے لیے بہتر صورت یہ ہے کہ وہ اپنے ووٹ کو کسی مناسب حکمت عملی کے تحت ضائع کر دے اور کاسٹ نہ کرے۔ شرعی لحاظ سے ایک فاسد انتخابی نظام میں شرکت پر اپنے عائلی نظام کی حفاظت کرنا بہر صورت مقدم ہے۔

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
مئی 06, 2026 @ 10:51صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں