قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیمِ ترکہ

زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0373
سوال

معزز مفتی صاحبان! ہم پانچ بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ ہماری والدہ محترمہ حیات ہیں۔ بہنوں کو ہمارے ہاں وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ جب کہ والدہ کی طرف سے بھی اس کا کوئی مطالبہ نہیں ہوتا۔ چناں چہ والد صاحب کی فوتگی کے بعد وراثت کی تقسیم ہم پانچ بھائیوں میں انصاف سے ہو چکی ہے، لیکن ایک جگہ ثالثوں نے باقاعدہ پیمائش کیے بغیر گھر بیٹھے لاٹری کروا دی۔ اس میں دو دکانیں دو دو بھائیوں کو ملیں جب کہ بڑا گودام ایک بھائی کے حصے میں آ گیا۔ ایک سال بعد وہاں روڈ بن گیا اور انکروچمنٹ کی ضد میں آنے کے سبب دکانوں کی ویلیو تقریبا ختم ہوگئی ہے۔ جب کہ دکان مکمل محفوظ اور روڈ کے فرنٹ میں آنے کے سبب اس کی ویلیو بڑھ گئی ہے۔ اب گودام والا بھائی باقی چار بھائیوں کو کوئی حصہ دینے کو تیار نہیں۔ البتہ ایک زمین ہے جس کو سب برابر تقسیم کرنے پر راضی ہیں۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا بغیر پیمائش لاٹری شرعاً درست تھی؟

جواب

​شریعت مطہرہ نے مرحومین کے ترکہ میں تمام ورثا کے حقوق اور حصص خود متعین فرما دیے ہیں، لہذا وراثت کی تقسیم ان ہی شرعی ضوابط کے تحت ہونی چاہیے۔ البتہ باہمی رضامندی سے قرعہ ڈال کر بھی ترکہ تقسیم کیا جاسکتا ہے، لیکن ایسی قرعہ اندازی تب ہی معتبر اور نافذ العمل ہوگی جب تمام ورثا کو اس میں شامل کیا جائے اور ان سب کی رضامندی حاصل ہو۔
​صورت مسئولہ میں چوں کہ مرحوم کی بیوہ (آپ کی والدہ محترمہ) اور بیٹیوں (آپ کی بہنوں) کو قرعہ اندازی کے عمل سے خارج رکھا گیا ہے اس لیے یہ قرعہ اندازی شرعاً کالعدم ہے اور از سر نو تمام ورثا کے درمیان شریعت کے مقرر کردہ حصص کے مطابق وراثت کی تقسیم لازم ہے۔ کسی وارث کو اس کے حق سے محروم کرنا سخت گناہ اور اللہ کی حدود کو توڑنے کے مترادف ہے۔
​نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے:
”مَنْ قَطَعَ مِيرَاثَ وَارِثِهِ، قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ (1)
​(جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا، (یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا (یعنی اسے جنت سے محروم کردے گا)۔‘‘
چناں چہ مرحوم کے حقوق متقدمہ کی ادائیگی (یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ، قرض کی ادائیگی اور اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو کل ترکہ کی ایک تہائی میں اسے ادا کرنے) کے بعد ان کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ بشمول دوکانیں، گودام اور زمین کو 96 حصوں میں تقسیم کرکے مرحوم کی بیوہ کو 12 حصے اور مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 14، 14 حصے اور مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو 7، 7 حصے ملیں گے۔​


(1) مشکوۃ المصابیح، (بیروت، المکتبۃ الاسلامی) کتاب الفرائض والوصایا، الفصل الثالث، 926/2، رقم : 3078

مقام
قلعہ عبد اللہ
تاریخ اور وقت
مئی 04, 2026 @ 11:24صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں