رابطہ کرنے کے آداب

زمره
حقوق و آداب معاشرت
فتوی نمبر
0364
سوال

موبائل فون ایک جدید ایجاد ہے۔ جس کے باعث رابطے کی انتہائی آسان سہولتیں میسر ہوگئی ہیں، لیکن بعض اوقات اس کا غیر محتاط استعمال کئی ایک سماجی و نفسیاتی مسائل پیدا کردیتا ہے۔ کیا کسی کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کے بھی کوئی آداب ہیں؟

جواب

یقینا ٹیلیفونک رابطہ بھی بالمشافہ گفتگو کی ایک صورت ہے، اس میں گفتگو کے تمام آداب ملحوظ رکھے جانے چاہئیں۔ چوں کہ دونوں ہم کلام حضرات سامنے نہیں ہوتے، اس لیے اس میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ مثلاً یہ دیکھنا ہوگا کہ آرام، کھانے، نمازوں، تعلیم وتعلّم، میٹنگ یا ڈیوٹی میں مصروفیت کے اوقات نہ ہوں۔ پھر بات بھی حقیقت پر مبنی اور مختصر کی جائے۔ لمبی بات کرنے کے لیے ٹائم لیا جائے۔ کمپنیوں کے پیکج لگا کر اپنا اور دوسروں کا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے، اس میں سرمایہ اور وقت دونوں کا ضیاع ہے۔ شرعی مسائل کی دریافت کے لیے ٹیلیفونک رابطے کی بجائے معتمد عالمِ دین سے ملاقات کے لیے ٹائم لے لیا جائے۔ رابطے پر اگر کال کاٹ دی جائے تو دوبارہ رابطہ وقفے کے بعد کیا جائے۔ مصروفیت کے اوقات میں ایمرجنسی کال کی صورت میں بات انتہائی مختصر کی جائے یا میسج بھیج دیا جائے۔ اسی طرح سننے والوں کو موبائل اپنے پاس رکھنا اور آن رکھنا چاہیے۔ اگر رابطے کے وقت کال کاٹ دی تھی تو فراغت کے وقت خود کال کرکے اطلاع کر دی جائے۔

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
مئی 04, 2026 @ 05:34شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں