زمره
فتوی نمبر
سوال
کیا قربانی کے ایک حصے میں ایک سے زیادہ مرحوم رشتہ داروں کی طرف سے نیت کی جا سکتی ہے؟
جواب
جی ہاں ! قربانی کے ایک حصے میں ایصال ثواب پہنچانے کے لیے ایک سے زیادہ مرحوم رشتہ داروں کی نیت کی جا سکتی ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے :
عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ، وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ، فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ، فَقَالَ لَهَا: يَا عَائِشَةُ ”هَلُمِّي الْمُدْيَةَ“، ثُمَّ قَالَ: ”اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ“، فَفَعَلَتْ ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ، ثُمَّ ذَبَحَهُ، ثُمَّ قَالَ: " بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ " ثُمَّ ضَحَّى بِهِ(1)
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو، سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہو (یعنی پاؤں، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں)۔ پھر ایک ایسا مینڈھا قربانی کے لیے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! چھری لے آؤ۔ پھر فرمایا کہ اس کو پتھر سے تیز کرو۔ چناں چہ میں (حضرت عائشہ) نے تیز کر دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی، مینڈھے کو پکڑا، اس کو لٹایا، پھر یہ فرماتے ہوئے ذبح کیا کہ ”اللہ کے نام سے (ذبح کررہا ہوں)، اے اللہ! محمد و آل محمد اور امتِ محمد کی طرف سے اس کو قبول فرمالیجیے۔)
(1) صحیح مسلم (بیروت، دار احیاء التراث العربی)، كتاب الأضاحي، باب استحباب الضحية...، 1557/3، رقم : 1927
