عشر یا نصف عشر کل پیداوار میں سے ادا کرنا لازم ہے

زمره
زکوٰۃ و صدقات
فتوی نمبر
0361
سوال

ایک آدمی نے بیسواں حصہ بطور نصف عشر ادا کرنا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ وہ تھریشر اور کٹائی وغیرہ کے اخراجات نکالنے کے بعد بیسواں حصہ ادا کرے گا یا کل پیداوار کا بیسواں حصہ ادا کرے گا؟ مثال کے طور پر اگر کل پیداوار 10 بوریاں ہوں اور 4 بوریاں اخراجات کی مد میں نکال دیں تو بقیہ 6 بوریوں میں سے بیسواں حصہ نکالیں گے یا کل پیداوار یعنی 10 بوریوں سے؟

جواب

عشر (دسواں حصہ) یا نصف عشر (بیسواں حصہ) کی ادائیگی کل پیداوار میں سے کرنا لازم ہے۔ چناں چہ اگر کل پیداوار 10 ہم وزن بوریاں ہوں تو نصف عشر کے طور پر آدھی بوری ادا کرنا ضروری ہوگا۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں تھریشر، کٹائی اور دیگر اخراجات نصف عشر کی ادائیگی کے بعد منہا کیے جائیں گے۔

مقام
بھکر
تاریخ اور وقت
مئی 01, 2026 @ 12:59شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں