زمره
فتوی نمبر
سوال
ایک شخص نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ اس کی وفات کے بعد اس کے جسمانی اعضا ضرورت مندوں کو دے دیے جائیں۔ یہ عمل شرعاً کیسا ہے؟
جواب
انسان اپنے اعضا و جوارح کا حقیقی مالک نہیں بلکہ یہ اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے عطا کردہ مقدس امانت ہیں۔ جیسے امانت میں ہر ایسا تصرف جو مالک کی منشا کے خلاف ہو (جیسے اس کو بیچنا، ہبہ کرنا، جان بوجھ کر ضائع کرنا) خیانت کہلاتا ہے، ویسے ہی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چیز میں اپنی مرضی سے تصرف، ملکِ خداوندی میں ناجائز مداخلت اور تخریب کاری کے زمرے میں آتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث مبارکہ کی روشنی میں یہ بات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے کہ ایسا شخص کہ جس نے خود ہی اپنے جسمانی اعضا کی تخریب کی ہو تو بروز قیامت اسے وہ اعضا واپس نہیں ملیں گے۔ صحیح مسلم کی حدیث ملاحظہ ہو:
عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ، أَتَى النَّبِيَّ ﷺ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ وَمَنْعَةٍ؟ قَالَ: حِصْنٌ كَانَ لِدَوْسٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَبَى ذَلِكَ النَّبِيُّ ﷺ لِلَّذِي ذَخَرَ اللَّهُ لِلأَنْصَارِ، فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ ﷺ إِلَى الْمَدِينَةِ، هَاجَرَ إِلَيْهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَة َ، فَمَرِضَ فَجَزِعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ، فَشَخَبَتْ يَدَاهُ حَتَّى مَاتَ، فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍ وَفِي مَنَامِهِ فَرَآهُ، وَهَيْئَتُهُ حَسَنَةٌ، وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: مَا صَنَعَ بِكَ رَبُّكَ؟ فَقَالَ: غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِﷺ ، فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكَ مُغَطِّيًا يَدَيْكَ؟ قَالَ: قِيلَ لِي: ”لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ“، فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ : ”اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ، فَاغْفِرْ“.(1)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ طفیل بن عمرو دوسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ کو ایک مضبوط قلعے اور تحفظ کی ضرورت ہے؟“ (روایت کرنے والے نے کہا: ”یہ ایک قلعہ تھا جو جاہلیت کے دور میں بنو دوس کی ملکیت تھا“) آپ نے اس (کو قبول کرنے) سے انکار کر دیا۔ کیوں کہ یہ سعادت اللہ نے انصار کے حصے میں رکھی تھی، پھر جب نبیﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو طفیل بن عمرو بھی ہجرت کر کے آپ کے پاس آ گئے، ان کے ساتھ ان کی قوم کے ایک آدمی نے بھی ہجرت کی۔ انہوں نے مدینہ کی آب و ہوا نا موافق پائی تو وہ آدمی بیمار ہوا اور گھبرا گیا۔ اس نے اپنے چوڑے پھل والے تیر لیے اور ان سے اپنی انگلیوں کے اندرونی طرف کے جوڑ کاٹ ڈالے، اس کے دونوں ہاتھوں سے خون بہا حتیٰ کہ وہ مر گیا۔ طفیل بن عمرو دوسی نے اسے خواب میں دیکھا، انہوں نے دیکھا کہ اس کی حالت اچھی تھی اور (یہ بھی) دیکھا کہ اس نے اپنے دونوں ہاتھ ڈھانپ رکھے تھے۔ طفیل نے (خواب میں) اس سے کہا: تمہارے رب نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ اس نے کہا: اس نے، اپنے نبی کی طرف میری ہجرت کے سبب، مجھے بخش دیا۔ انہوں نے پوچھا: میں تمہیں دونوں ہاتھ ڈھانپے ہوئے کیوں دیکھ رہا ہوں؟ اس نے کہا: مجھ سے کہا گیا: (اپنا) جو کچھ تم نے خود ہی خراب کیا ہے، ہم اسے درست نہیں کریں گے۔ طفیل نے یہ خواب رسول اللہ ﷺ کو سنایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کے دونوں ہاتھوں کو بھی بخش دے۔“
لہذا صورت مسئولہ میں کسی بھی شخص کا اپنے اعضا عطیہ کرنا، انہیں بطور عوض دینا یا ان کی خرید و فروخت کرنا اللہ تبارک و تعالیٰ کی تخلیق میں بے جا مداخلت اور اس کی ودیعت کردہ نعمت میں در اندازی کا ارتکاب ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
(1) صحیح مسلم، (بیروت، دار احیاء التراث العربی)، كتاب الإيمان، باب الدليل على أن قاتل نفسه لا يكفر، 108/1، رقم: 116
