دیت میں ملنے والی رقم ترکہ شمار ہوگی

زمره
حدود و دیات
فتوی نمبر
0369
سوال

ایک خاتون کے قتل کا مقدمہ ہے، جس کے ورثاء موجودہ شوہر، ایک نابالغ بیٹا اور ایک نابالغ بیٹی (سابقہ شوہر سے) ہیں۔ قتل کے ملزمان میں مقتولہ کا اپنا نابالغ بیٹا بھی نامزد ہے، جب کہ حقیقت میں وہ قتل میں ملوث نہیں، بلکہ صرف موقع پر موجود تھا۔ اب اس کیس میں صلح ہو چکی ہے، جس میں موجودہ شوہر اور بیٹی کے ولی کی حیثیت سے سابقہ شوہر نے عدالت میں صلح نامہ جمع کرا دیا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر بیٹا اپنی ماں کے قتل میں ملوث ہونے کی وجہ سے وراثت سے محروم قرار پاتا ہے تو مقتولہ کے ورثا کون ہوں گے اور دیت کی رقم کس طرح تقسیم ہوگی؟ نیز کیا بیٹے کی محرومی کی صورت میں مقتولہ کے بہن بھائی بھی وراثت میں حصہ دار بنیں گے یا نہیں؟

جواب

مقتولہ کا نابالغ بیٹا جیسا کہ سوال میں مذکور ہے کہ حقیقی طور پر قتل میں ملوث نہیں تو وہ ترکہ سے محروم بھی نہیں ہوگا۔ نیز مقتولہ کی دیت اس کا ترکہ بن کر اس کے شرعی ورثا میں تقسیم ہوگی۔ لہذا مقتولہ کے حقوق متقدمہ (تجہیز و تکفین کے اخراجات، اگر اس پر قرض ہو تو اس کی ادائیگی اور اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی میں اسے نافذ کرنے کے بعد) دیت سمیت کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کے 4 حصے کیے جائیں گے، جن میں مقتولہ کے شوہر کو ایک حصہ (25٪) بیٹی کو بھی ایک حصہ (25٪) جب کہ بیٹے کو دو حصے (50٪) از روئے شرع ملیں گے۔ مقتولہ کے بہن بھائی ترکہ سے مرحوم ہوں گے۔

مقام
سیالکوٹ
تاریخ اور وقت
اپریل 30, 2026 @ 05:52صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں