نمازی کے آگے کتنے فاصلے سے گزرا جاسکتا ہے؟

زمره
عبادات و اخبات الٰہی
فتوی نمبر
0407
سوال

(1) نمازی کے آگے سے کتنی صف کے بعد گزر سکتے ہیں؟
(2) اگر جماعت میں شامل ہونا ہو اور جماعت والی صف سے پچھلی صف میں ایک شخص سنتیں پڑھ رہا ہو تو کیا اس کے آگے سے گزرنا جائز ہے؟

جواب

(1) چھوٹی مسجد میں نمازی کے آگے سترہ (کم از کم ڈیڑھ فٹ (18 انچ) لمبی اور ایک انگلی کے برابر موٹی چیز) کے بغیر گزرنا جائز نہیں ہے۔ نمازی کے آگے سے گزرنے کے گناہ کی سنگینی بیان کرتے ہوئے رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ"، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: لَا أَدرِي، أَ قَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً. (1)
​نمازی کے آگے سے گزرنے والا اگر یہ جان لے کہ اس کی کیا سزا ہے تو وہ نمازی کے آگے سے گزرنے کے بجائے چالیس تک کھڑے رہنے کو بہتر خیال کرے۔ (اس حدیث کے ایک راوی) حضرت ابو نضر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
”​میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے چالیس دن فرمایا، چالیس مہینے فرمایا یا چالیس سال۔“
​البتہ بڑی مسجد (کہ جس کا رقبہ چالیس شرعی گز (30×30 / 900 مربع فٹ) یا کھلے میدان میں نمازی کے آگے سے اتنی دور سے گزرنا جائز ہے کہ اگر نمازی کی نگاہ جائے سجدہ پر رہے تو آگے سے گزرنے والا شخص اس کو نظر نہ آئے اور اس فاصلہ کا اندازہ نمازی کے جائے قیام سے تین صف سامنے تک کیا گیا ہے۔
(2) جماعت میں مقتدیوں کے آگے گزرنے میں کوئی حرج نہیں، البتہ امام یا منفرد کے آگے سترہ کے بغیر گزرنا جائز نہیں۔ لہذا جو شخص پچھلی صف میں سترہ کے بغیر نماز پڑھ رہا ہو، اس کے آگے سے گزرنا جائز نہیں، تاہم جماعت میں شامل ہونے کے لیے متبادل راستہ نہ ہو تو گزرنے کی گنجائش ہے۔​


(1) الجامع الصحیح للبخاری، (قاہرہ، دار التاصیل)، کتاب الصلاۃ، باب اثم المار بین یدی المصلی، 225/1، رقم : 515

مقام
رحیم یار خان
تاریخ اور وقت
اپریل 28, 2026 @ 02:47شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں