زمره
فتوی نمبر
سوال
میرے خالو (جو میرے سسر بھی ہیں) چند سال قبل کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں مرض کی تشخیص ہونے کے بعد اور وفات سے کچھ عرصہ پہلے، کراچی میں واقع اپنا مکان اپنی اہلیہ کے نام کر دیا تھا تاکہ ان کی وفات کے بعد چھوٹے بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کے معاملات باآسانی چل سکیں۔ جس وقت خالو کا انتقال ہوا، اس وقت ان کے والدین حیات تھے لیکن اب وہ بھی وفات پا چکے ہیں جب کہ خالو کے دیگر بہن بھائی ابھی زندہ ہیں۔ شرعی رہنمائی درکار ہے کہ کیا بیوی کے نام کی گئی اس جائیداد میں مرحوم کے والدین کا اس مکان میں وراثت کا حصہ بنتا تھا جو اب ان کی وفات کے بعد ان کے دیگر بیٹوں اور بیٹیوں (مرحوم کے بہن بھائیوں) کی طرف منتقل ہو یا یہ مکان صرف بیوہ کی ملکیت ہوگا؟
جواب
اگر مرحوم نے اپنی زندگی میں مکان بیوہ کے نام کیا اور اس پر اسے مکمل قبضہ اور تصرف بھی دے دیا تھا، تو وہ مکان بیوہ کی ذاتی ملکیت (ہبہ) شمار ہوگا اور اسے ترکہ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ اس کے برعکس اگر مکمل قبضہ و تصرف حاصل نہ ہوا تو ایسی صورت میں وہ مکان مرحوم کا ترکہ مانا جائے گا جو کہ اس کے شرعی ورثا بشمول بیوہ، والدین اور بھائیوں کے درمیان ان کے مقرر کردہ حصوں کے تناسب سے تقسیم ہوگا۔ اس صورت میں والدین کے فوتگی کے بعد مکان کا وہ حصہ جو شرعی طور والدین کی ملکیت میں آئے گا، وہ والدین کے شرعی ورثا کے درمیان ان کے حصوں کے تناسب سے تقسیم ہوگا۔ اس سلسلے میں مرحوم اور اس کے والدین کے شرعی ورثا کی مکمل تعداد بتا کر ترکہ میں ان کا حصہ معلوم کیا جاسکتا ہے۔
