کسی مجبوری کے سبب حرام رشتہ برقرار رکھنا جائز نہیں

زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0350
سوال

میرے شوہر نے بحث کرتے وقت تین بار یہ کہا ”میں آپ کو طلاق دے رہا ہوں“ اور اس کے دو منٹ بعد ہی رجوع کر لیا۔ اس وقت کوئی گواہ پاس نہیں تھا۔ میری دو سال کی بیٹی ہے۔ اور میرے گھر والے اس شہر میں نہیں رہتے، انجان شہر ہے۔ میں کسی کو نہیں جانتی اور میرے گھر والے مجھے یا میری بیٹی کو قبول نہیں کریں گے۔ میرے سسرال اور شوہر خوشی سے مجھے اور میری بیٹی کو واپس رکھنا چاہتے ہیں، میں کیا کروں؟

جواب

صورتِ مسئولہ شوہر کی طرف سے آپ کو تین بار ”میں آپ کو طلاق دے رہا ہوں“ کے الفاظ کہتے ہی آپ پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکیں۔ طلاق واقع ہونے کے لیے گواہوں کا ہونا ضروری نہیں۔ تین طلاق کے بعد رجوع کا حق ختم ہو جاتا ہے اور میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام ہوجاتے ہیں۔ کسی مجبوری کے سبب حرام رشتہ برقرار رکھنا جائز نہیں۔ لہذا آپ کو چاہیے کہ اپنی عدت مکمل کریں، اس کے بعد آپ کہیں اور نکاح کر سکتی ہیں۔

مقام
کراچی
تاریخ اور وقت
اپریل 24, 2026 @ 04:22صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں