قرعہ اندازی کے ذریعے موٹر سائیکل سکیم کا حکم

زمره
بیوعات و معاملات
فتوی نمبر
0346
سوال

مفتی صاحب ! گذارش ہے کہ ایک موٹر سائیکل سکیم کی شرعی حیثیت کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ اس سکیم میں کل 100 اراکین شامل ہیں، جن میں سے ہر رکن 36 ماہ تک 5,000 روپے ماہانہ جمع کروانے کا پابند ہے، جب کہ ایک موٹر سائیکل کی کل قیمت 1,80,000 روپے مقرر کی گئی ہے۔ سکیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ ہر ماہ ایک خوش نصیب رکن کو قرعہ اندازی کے ذریعے موٹر سائیکل دی جاتی ہے اور موٹر سائیکل ملنے کے بعد اس رکن کو بقیہ ماہانہ اقساط کی ادائیگی سے مکمل چھوٹ دے دی جاتی ہے، جب کہ باقی رہ جانے والے ممبران کو سکیم کے آخری تین ماہ میں ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ براہِ کرم یہ واضح فرمادیں کہ کیا ایسی سکیم کے تحت کاروبار کرنا شرعی طور پر جائز ہے؟

جواب

​صورت مسئولہ میں سکیم ممران کی طرف سے جمع کردہ رقم شرعاً قرض کی حیثیت رکھتی ہے۔ قرعہ اندازی کے ذریعے نام نکل آنے کی صورت میں بقیہ اقساط کا معاف ہوجانا قرض پر نفع ہے اور ہر وہ قرض جس کے ذریعے سے نفع کا حصول ہو وہ سود کہلاتا ہے۔ نیز غیر یقینی صورتحال کے تحت یہ معاملہ نفع و نقصان کے خطرے کی بنیاد پر ہے جو کہ قِمار (جوا) کی ایک شکل ہے۔ سود اور قمار سے متعلق قرآن و حدیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں اور اس کو کاروبار بنا دینا تو زیادہ قبیح ہے، لہذا اس طرح کے کاروبار سے اجتناب ضروری ہے۔

مقام
بہاولنگر
تاریخ اور وقت
اپریل 22, 2026 @ 02:02شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں