زمره
قربانی و عقیقہ
فتوی نمبر
0342
سوال
ہم ہر سال قربانی کرتے ہیں، لیکن اس سال کچھ نقصان ہوگیا ہے، جس کے سبب ہاتھ تنگ ہے۔ جب کہ کچھ بچت بھی پڑی ہوئی ہے، لیکن وہ بچت اتنی ہے کہ بس قربانی کرنے کے بعد تھوڑی رقم بچے گی۔ اس صورت میں قربانی کے حوالے سے کیا حکم ہے؟
جواب
جس شخص کی ملکیت میں 12 ذی الحجہ کی غروب آفتاب سے قبل ساڑھے سات تولے سونا یا اس کے برابر نقدی یا ساڑھے باون تولے خالص چاندی ہو یا مالِ تجارت، ضرورت سے زائد گھریلو سامان اور جائیداد ہو اور ان میں سے کسی ایک، دو یا سب کی مجموعی مالیت ساڑھے سات تولے سونے کو پہنچتی ہو تو ایسے مالدارعاقل بالغ مقیم شخص پر قربانی واجب ہے۔ لہذا اگر آپ یا آپ کے گھر کا کوئی فرد اس قدر مالدار نہیں تو اس پر قربانی واجب نہیں۔
مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
اپریل 21, 2026 @ 03:44شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
