بارانی زمین پر عشر کا حکم

زمره
زکوٰۃ و صدقات
فتوی نمبر
0337
سوال

میری زمین بارانی ہے، جس سے 17 من گندم ہوا ہے۔ اس پر کتنا عشر ہے؟

جواب

​چوں کہ زمین بارانی ہے (یعنی بارش کے پانی سے سیراب ہوتی ہے)، اس لیے اس کی پیداوار میں عُشر (دسواں حصہ) واجب ہے، کیوں کہ اس میں آبپاشی کے لیے کوئی محنت نہیں ہوتی۔ لہٰذا اگر کل پیداوار 17 من گندم ہے تو اس کا دسواں حصہ یعنی تقریباً 68 کلو گرام بطورِ عُشر دینا لازم ہوگا۔ یہ مقدار مستحقینِ زکوٰۃ کو دی جائے گی۔ لیکن اگر زمین کی آب پاشی پر زائد خرچ کرنا پڑتا ہے، جیسے چاہی زمینوں میں یا نہری زمینوں میں پانی کی قیمت حکومت کو ادا کرنا پڑے تو ان میں پیداوار کا بیسواں حصہ ادا کرنا واجب ہوگا۔

مقام
دینہ
تاریخ اور وقت
اپریل 18, 2026 @ 10:01صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں