زمره
فتوی نمبر
سوال
میں نے 150,000 روپے سالانہ کے عوض زمین ٹھیکے پر لی ہے۔ 50 من کی پیداوار ہوئی ہے۔ نہری پانی اور ٹیوب ویل کا پانی استعمال ہوا ہے۔ مہنگی کھاد بیج اور سپرے استعمال کیا ہے۔ خود محنت نہیں کر سکتا بلکہ مزدوروں سے کام کروایا ہے۔ منافع صرف 20,000 روپے ہوا ہے۔ کیا عشر مجھ پر واجب ہے یا زمین کے مالک پر؟
جواب
ٹھیکے کی زمین پر عشر کی ادائیگی کے حوالے سے شرعی حکم یہ ہے کہ نہر (جس کے پانی کا لگان ادا کرنا پڑے) اور ٹیوب ویل کے پانی سے سیراب شدہ زمین کی کل پیداوار کا بیسواں حصہ یعنی اگر پیداوار 50 من ہوئی ہے تو اس میں سے اڑھائی من (100 کلو) کسی مستحقِ زکوۃ شخص کو دینا واجب ہے۔ مزید بر آں اگر ادا کردہ ٹھیکہ (کرایہ) اس زمین کی مقدار اور معیار کو سامنے رکھتے ہوئے اس علاقے میں موجود دیگر زمینوں کے کرایہ کے برابر ہے تو یہ اجرتِ کاملہ (مکمل اجرت) ہے، اس صورت میں نصف عشر کی ادائیگی زمین کے مالک کے ذمہ ہوگی۔ لیکن اگر یہ کرایہ اس جیسی دیگر زمینوں کے مقابلے میں بہت کم ہے تو اس صورت میں نصف عشر کی ادائیگی ٹھیکہ دار کے ذمہ ہوگی۔
