نکاح کے وقت پہلی بیٹی عورت کے والدین کے حوالے کرنے کی شرط لگانا

زمره
سماجی برائیاں
فتوی نمبر
0339
سوال

ہمارے علاقے (بلوچستان) میں ایک رسم عام ہے کہ نکاح کے موقع پر یہ شرط طے کر لی جاتی ہے کہ اس جوڑے کی ہونے والی پہلی بیٹی عورت کے والدین یعنی نانا نانی کو دے دی جائے گی۔ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں کہ:
(1) کیا نکاح کے وقت ایسی شرط لگانا درست ہے؟ جب کہ وہ بچی اصل میں اپنے والدین کی اولاد ہے اور نانا نانی اسے زبردستی چھین لیتے ہیں۔
(2) نانا نانی کا اس بچی کو اپنی مرضی سے اپنے خاندان یا باہر کے کسی فرد کو دے دینا، اور بچی کو نکاح میں دینے کے بدلے میں باقاعدہ رقم وصول کرنا جائز ہے؟ واضح رہے کہ اس صورت میں اکثر بچی کے اصل ماں باپ راضی نہیں ہوتے، لیکن رسم کے دباؤ میں نانا نانی ہی اس کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔
(3) براہِ کرم یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اس عمل کا گناہ کن کن افراد پر ہوگا؛ آیا صرف نانا نانی گناہ گار ہوں گے یا وہ والدین بھی شریکِ گناہ ہوں گے جو اپنی اولاد کے حقوق کا تحفظ نہیں کر پاتے؟

جواب

(1) نکاح کے وقت ایسی شرط لگانا ناجائز ہے۔ میاں بیوی کے لیے ایسی باطل شرط کو پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔ بچی کو اپنے والدین سے جدا کرنا ایک طرح کا ظلم ہے، جس سے اجتناب ضروری ہے۔
(2) بچی کے والدین اور خود اس بچی کی مرضی کے بغیر ظلماً کسی جگہ اس کا رشتہ کرنا اور اس کے بدلے میں متعین رقم وصول کرنا (جیسا کہ بعض قبائلی علاقوں کا رَواج ہے) سراسر حرام اور اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بچی کی رضامندی کے بغیر اس کا نکاح بھی باطل ہے۔ اس رسمِ بد کی جس قدر مذمت ہو، کم ہے۔
​(3) نانا نانی کے ساتھ اگر والدین بھی اس ظلم پر راضی ہوں تو وہ بھی گنہگار ہوں گے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہاں موجود ہر وہ شخص جو اس رسم کو اچھا سمجھتا ہے اور بالواسطہ یا بلاواسطہ اس میں شریک ہے تو وہ بھی گنہگار ہوگا۔
دینی فہم و شعور رکھنے والے بااثر لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ اس طرح کی جاہلانہ رسوم کا سماجی سطح پر خاتمہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔​

مقام
پیرکوہ
تاریخ اور وقت
اپریل 13, 2026 @ 02:36صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں