زمره
فتوی نمبر
سوال
رشیدہ بیگم اور مجیدہ بیگم دونوں بہنیں ہیں اور دونوں بالغ ہیں۔ ایک شخص ذاکر اللہ کا نکاح رشیدہ بیگم سے ہونا طے پایا تھا۔ جب برأت ان کے گھر پہنچ گئی اور نکاح کی مجلس منعقد کی گئی تو غلطی سے ذاکر اللہ کا نکاح مجیدہ بیگم سے کردیا گیا۔ برأت کی رخصتی سے قبل ہی یہ صورتِ حال معلوم ہوگئی تو فوری طور پر رشیدہ بیگم سے بھی ذاکر اللہ کا نکاح کردیا گیا اور اس کو بیاہ کر گھر لے آئے اور اس کے بعد مجیدہ بیگم جس سے پہلے غلطی سے نکاح کردیا گیا تھا، طلاق دے دی تو اب اس نکاح کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
ذاکر اللہ جس کا نکاح رشیدہ بیگم سے ہونا طے پایا تھا اور غلطی سے اس کی بہن مجیدہ بیگم سے ذاکر اللہ کا نکاح کردیا گیا تو شرعی طور پر مجیدہ بیگم کا نکاح قائم اور درست ہے۔ اس کی موجودگی میں مجیدہ بیگم کی کسی بہن سے نکاح کرنا درست نہیں۔ البتہ ذاکر اللہ نے جب مجیدہ بیگم کو طلاق دے دی تو اب اس کی بہن رشیدہ بیگم سے نکاح کرنا درست ہے۔ طلاق سے قبل جو رشیدہ بیگم سے نکاح کیا گیا، وہ شرعی طور پر کالعدم ہے۔ دوبارہ نکاح کرنا شرعاً ضروری ہے۔ چوںکہ مجیدہ بیگم سے خلوت وغیرہ نہیں ہوئی، اس لیے طلاق کے فوری بعد رشیدہ بیگم سے نکاح کرنا درست ہے۔
