ایک مسجد میں اذان دے کر دوسری مسجد میں نماز کے لیے جانا

فتوی نمبر
0321
سوال

ایک شخص ایک مسجد میں اذان کہتا ہے اور پھر وہ شخص دوسری مسجد میں نماز پڑھنے چلا جاتا ہے۔ اس کا یہ فعل شرعاً دررست ہے یا نہیں؟ ایسے ہی یہ بھی بیان کریں کہ اس کی اذان کہنے میں کوئی حرج تو لاحق نہیں ہوتا؟

جواب

​مؤذن نے مسجد میں اذان کہی ہے تو نماز بھی وہیں ادا کرے۔ ہاں اگر یہاں او رکوئی نمازی نہیں اور دوسری مسجد میں جہاں جانا چاہتا ہے‘ وہاں جماعت کا اہتمام ہے تو یہ دوسری مسجد میں جاسکتا ہے۔ البتہ یہ مستقل عادت نہ بنائی جائے۔

مقام
پشین
تاریخ اور وقت
اپریل 09, 2026 @ 05:58شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں