زمره
فتوی نمبر
سوال
محترم مفتی صاحب! گزارش یہ ہے کہ ہمارے خاندان میں ایک نہایت اہم اور پیچیدہ وراثتی مسئلہ درپیش ہے، جس کے متعلق شرعی رہنمائی درکار ہے۔ تفصیل درج ذیل ہے:
ہمارے خاندان کا ایک فرد، جس کا نام محسن ہے، سن 1970 میں اپنے گھر سے بحالتِ صحت و زندگی نکلے تھے، لیکن اس کے بعد آج تک اس کی کوئی خبر، اطلاع یا سراغ نہیں ملا۔ اس طویل عرصے (تقریباً 50 سال سے زائد) میں نہ ان کے زندہ ہونے کی کوئی تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی وفات کا کوئی یقینی ثبوت ملا ہے۔ محسن صاحب کے ایک بھائی اور تین بہنیں تھیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ: ان کا بھائی بھی وفات پا چکا ہے، تین بہنوں میں سے دو بہنیں بھی وفات پاچکی ہیں۔ اس وقت وراثت کا معاملہ بھتیجوں اور بھانجوں کے درمیان زیرِ بحث ہے۔ لہٰذا موجودہ صورت حال میں درج ذیل سوالات کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے:
(1) کیا اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعد محسن صاحب کو شرعاً فوت شدہ قرار دے کر ان کی عدم موجودگی میں جائیداد کو مکمل طور پر تقسیم کیا جاسکتا ہے؟
(2) موجودہ صورت میں ان کی ایک بہن، 3 بھتیجوں، 2 بھتیجیوں، 12 بھانجوں اور 7 بھانجیوں کے درمیان وراثت کی تقسیم کس اصول کے تحت کی جائے؟
آپ سے گزارش ہے کہ قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں اس مسئلے کا واضح، مدلل اور مفصل شرعی حکم (فتویٰ) مرحمت فرمائیں تاکہ ہم کسی نا انصافی سے بچتے ہوئے درست شرعی طریقے کے مطابق فیصلہ کر سکیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب
(1) جو شخص اس طرح لاپتہ ہو جائے کہ اس کے زندہ یا فوت ہونے کا یقینی علم نہ ہو، اسے فقہ کی اصطلاح میں ”مفقود الخبر“ کہا جاتا ہے۔
مفقود الخبر شخص کے معاملے میں عدالت سے رجوع کیا جائے۔ عدالت تحقیق و تفتیش کے بعد فقہ مالکی کی روشنی میں اگر چار سال تک اس شخص کا کوئی سراغ نہ ملے تو حکماً اس کی وفات کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ جب تک عدالت اس کی وفات کا حکم نہ دے، اس کے تمام ترکہ (منقولہ و غیر منقولہ جائیداد) کو محفوظ رکھا جائے گا۔ بعد ازاں، عدالت کے فیصلے کے بعد، اس کی تمام جائیداد اس کے اس وقت موجود شرعی ورثا میں تقسیم کی جائے گی۔
(2) تمام جائیداد کے 6 حصے کریں گے، ان میں سے 3 حصے بہن کو اور باقی تین حصوں میں سے ہر بھتیجے کو ایک ایک حصہ ملے گا۔ بھتیجیوں، بھانجے اور بھانجیوں کا میراث میں حصہ نہیں ہے۔
متعقلہ حوالہ جات درج ذیل ہیں:
- وقد وقع الاختلاف في هذه واختلف الترجيح،....واختار المتأخرون ستين سنة واختار المحقق ابن الهمام سبعين سنة واختار شمس الأئمة أن لا يقدر بشيء؛ لأنه أليق بطريق النفقة؛ لأن نصب المقادير بالرأي لا تكون وفي الهداية أنه الأقيس وفوضه بعضهم إلى القاضي فأي وقت رأى المصلحة حكم بموته، قال الشارح وهو المختار.
(البحر الرائق، (کوئٹہ، مکتبہ رشیدیہ)، کتاب المفقود، 277/5) - والمختار أنه يفوض إلى رأي الإمام، كذا في التبيين، وإذا حكم بموته اعتدت امرأته عدة الوفاة من ذلك الوقت وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه، كذا في الهداية،...ويعتبر ميتا في ماله يوم تمت المدة، وفي مال الغير يعتبر كأنه مات يوم فقده، كذا في التتارخانية.
(فتاوی عالمگیری، (بیروت، دار الفکر)، کتاب المفقود، 300/2) - قال مالك: يوقف مال المفقود إذا فقد، فالسلطان ينظر في ذلك ويوقفه ولا يدع أحدا يفسده ولا يبذره.
(المدونة، (بیروت، دار الکتب العلمیة)، كتاب طلاق السنة، القضاء في مال المفقود.... 34/2) - ومن غاب عن امرأته فعمي خبره وانقطع أثره....فإنها ترفع أمرها إلى السلطان فيبحث عن خبره....ولم يتميز له حياة ضرب لها حينئذ أجل أربع سنين ثم اعتدت بعدها عدة الوفاة
(التلقین فی االفقہ المالکی، (بیروت، دار الکتب العلمیة)، کتاب النکاح وما یتصل بھا، 123/1) - فيبدأ بأصحاب الفرائض، وهم الذين لهم سهام مقدرة في كتاب الله تعالى، ثم بالعصبات....ثم الرد على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم، ثم ذوي الأرحام.
(السراجی فی المیراث، (کراچی، مکتبۃ البشری)، ترتیب تقسیم الترکۃ، ص: 16 ) - ذو الرحم: هو كل قريب ليس بذي سهم ولا عصبة....وذوو الأرحام أصناف أربعة: الصنف الأول: ينتمي إلى الميت.... والصنف الثاني: ينتمي إليهم الميت....والصنف الثالث: ينتمي إلى أبوي الميت: وهم أولاد الأخوات وبنات الإخوة وبنو الإخوة لأم.
(ایضاً، باب ذوي الأرحام، ص: 166) - وإنما يرث ذوو الأرحام إذا لم يكن أحد من أصحاب الفرائض ممن يرد عليه ولم يكن عصبة وأجمعوا على أن ذوي الأرحام لا يحجبون بالزوج والزوجة أي يرثون معهما فيعطى للزوج والزوجة نصيبهما ثم يقسم الباقي بين ذوي الأرحام، كما لو انفردوا.
(فتاوی عالمگیری، (بیروت، دار الفکر)، کتاب الفرائض، الباب العاشر في ذوي الأرحام، 459/6)
