زمره
فتوی نمبر
سوال
میں نے چند دن قبل آپ کی ویب سائٹ سے اپنے بھتیجے کی بیوی کے بارے میں طلاق کا فتوی لیا تھا۔ آپ کی خدمت میں اس مسئلہ سے متعلق مزید وضاحت کے لیے عرض ہے کہ میرے بھتیجے کی بہن (میری بھتیجی) پر کسی نے جادو کیا ہوا ہے اور اسے جنات کا اثر ہے اور وہ میرے بھتیجے کی بیوی کی آواز میں بات کرتے ہیں۔ میرا بھتیجا اور اس کی بہن اٹلی میں مقیم ہیں۔ جب کہ بھتیجے کی بیوی پاکستان میں ہے۔ پچھلے دو سال سے جنات تسلسل کے ساتھ میرے بھتیجے کی بیوی کے پاس آتے رہے ہیں۔ وہ جنات بھتیجے کی بیوی کی آواز میں بار بار میرے بھتیجے سے طلاق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بھتیجے نے جنات سے جان چھڑانے کے لیے اپنی بیوی کو واٹس ایپ وائس میسج پر تین بار بول دیا کہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“۔ اور اس نے جنات کے دباؤ میں آکر ایسا بولا تاکہ اس کی بہن کی سختی دور ہوسکے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کی بیوی کو طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟
جواب
جنات کے دباؤ اور ان کے زیر اثر آکر عدم طلاق کا حکم صرف اس صورت میں دیا جاسکتا ہے کہ جب شوہر طلاق دیتے وقت اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا ہو، اسے اپنے کہنے کرنے اور اچھے برے کی تمیز نہ رہی ہو۔ لیکن واٹس ایپ پر کسی مخصوص کانٹیکٹ کو تلاش کرنا، اسے منتخب کرنا، پھر وائس ریکارڈ کرنا اور اسے باقاعدہ ارسال کرنا ایسے منظم افعال ہیں جو مکمل شعور اور ارادے کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ پوری ترتیب اس بات کو واضح کرتی ہے کہ طلاق کا پیغام بھیجتے وقت آپ کا بھتیجا اپنے ہوش و حواس میں تھا اور اسے اپنے کہے اور کیے کا پورا ادراک تھا، لہٰذا ایسی صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔
