زمره
فتوی نمبر
سوال
سکولوں اور کالجوں میں چھٹی کرنے یا پیپر/ٹیسٹ نہ دینے کی صورت میں جرمانہ لیا جاتا ہے۔ کیا اسکول انتظامیہ کے لیے اس کا لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جرمانہ نہ لیا جائے تو اس کے متبادل کے طور پر کیا طریقہ اپنایا جائے؟ براہِ کرم اس پر رہنمائی فرمائیں!
جواب
یہ سرمایہ دارانہ نظامِ تعلیم کا طریقہ ہے جو صرف مادی نفع و نقصان کی بنیاد پر قائم ہونے کے ساتھ دینِ اسلام کے نظامِ تعلیم و تربیت اور تزکیۂ نفس سے بالکل متصادم ہے۔ شریعت کی نظر میں کسی غیر مالی کوتاہی پر متاثرہ شخص کی رضامندی کے بغیر اس کا مال لینا جائز نہیں ہے، جب کہ اس کی متبادل صورتیں بھی موجود ہوں۔ لہذا طلبہ پر مالی جرمانوں کی بجائے درج ذیل تجاویز پر غور و فکر کرکے، ایک منظم نظام بنانا اور اساتذہ کی اس کے مطابق ٹریننگ کرنا زیادہ مفید رہے گا:
(1) جب کوئی طالب علم غیر حاضر ہو تو استاد محترم اس سے تنہائی میں غیر حاضری کی وجہ پوچھیں اور شفقت سے اسے ہونے والے تعلیمی نقصان کا احساس دلائیں۔
(2) بسا اوقات سبق سمجھ نہ آنے کے سبب بچہ ذہنی دباؤ اور احساس کمتری کا شکار ہوکر کنارہ کشی اختیار کرتا ہے۔ استاد صاحب کا کام، اس کی اصل وجہ کو جان کر اسے دور کرنا ہے۔ اس سلسلے میں طالب علم کی حوصلہ افزائی اور ذہن سازی کے لیے لیکچرز کا اہتمام کرنا چاہیے۔
(3) جرمانے کا نوٹس بھیجنے کے بجائے استاد صاحب خود یا انتظامیہ والدین سے رابطہ کریں اور غیر حاضر ہونے کی وجہ دریافت کریں۔ والدین کی طرف سے بچے کی غیر حاضری کی کوئی وجہ تعلیمی نظام سے منسلک ہو تو اس کو دور کرنے کی حکمت عملی بنائی جائے۔ وغیرہ
بہر صورت جرمانہ وصول کرنا اور اسے سکول کے اخراجات یا انتظامیہ پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔
