کیا لوڈو (Ludo) کھیلنا جائز ہے؟

زمره
حظر و اباحت
فتوی نمبر
0327
سوال

کیا لوڈو (Ludo) کھیلنا جائز ہے؟

جواب

​لوڈو (Ludo)کھیلنا اپنی اصل حالت میں جائز ہے، بشرطیکہ درج ذیل شرائط پوری ہوں:
​1. جوا (رقم یا کوئی چیز) لگا کر نہ کھیلا جائے – اگر جوا لگا کر کھیلا جائے تو یہ ناجائز اور حرام ہے۔
​2. فرائض (نماز وغیرہ) میں غفلت نہ ہو – اگر کھیل کی وجہ سے نماز قضا ہو یا دینی و دنیوی ذمہ داریوں سے غفلت برتی جائے تو یہ ناجائز ہے۔
​3. تلخ کلامی، لڑائی جھگڑا یا شور و غل نہ ہو – اگر کھیل کے دوران بدکلامی، جھگڑا یا فساد کا اندیشہ ہو (جو کہ بالعموم ہوتا ہے) تو یہ ممنوع ہے۔
4. وقت ضائع کرنے کی حد تک نہ ہو – تھوڑی دیر تفریح کے لیے جائز ہے، لیکن اس قدر منہمک ہوجانا کہ قیمتی وقت برباد ہوجائے (جیسا کہ اکثر ہوتا ہے) تو یہ دانشمندی نہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ گو یہ کھیل بنیادی طور پر مباح (جائز) ہے، لیکن جوا، فرائض میں غفلت، جھگڑا، وقت کا ضیاع جیسی ممنوع صورتیں پیش آنے کے سبب بہتر یہ ہے کہ ایسے کھیلوں کا انتخاب کیا جائے جو ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کے لیے مفید ہوں۔​

مقام
واہ کینٹ
تاریخ اور وقت
اپریل 04, 2026 @ 05:39شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں