غیر مسلموں کے زیرِ انتظام ریسٹورینٹ میں کھانا کھانے کے لیے چند احتیاطی تدابیر

زمره
حلال و حرام
فتوی نمبر
0310
سوال

حضرت ! میں چائنہ میں رہتا ہوں۔ یہاں پر لوکل فوڈ تقریباً حلال نہیں ہوتا۔ باہر ریسٹورینٹ پر کچھ حلال چیزیں مل جاتی ہیں، جیسے مچھلی وغیرہ۔ لیکن پریشانی یہ ہے کہ کیا مچھلی کھانے کے لیے اس کے پکنے کے سارے مراحل (جیسے تیل، برتن اور مصالحہ جات وغیرہ) چیک کرنا لازمی ہے؟ براہ کرم وضاحت فرمائیں کہ کیا اس طرح کے غیر مسلموں کے ریسٹورینٹ پر مچھلی یا سبزی کھانا حلال میں شمار ہوگا؟

جواب

غیر مسلموں کے زیر انتظام ریسٹورینٹ میں کھانا کھانے سے قبل اس بات کا اطمینان کرلینا ضروری ہے کہ کھانے میں شامل چیزیں حلال اور طیب ہیں یا نہیں۔ مثال کے طور پر مچھلی یا سبزی کو تلنے یا پکانے کے لیے اس میں شامل کیے جانے والے مصالحہ جات حلال ہوں، تیل حلال ہو، اس میں حرام چیزوں کی آمیزش یا ملاوٹ نہ ہو اور نہ اس تیل میں پہلے کسی حرام چیز کو پکایا گیا ہو۔ اگر یقین یا غالب گمان ہو کہ کھانے میں حرام چیزوں کی ملاوٹ ہوتی ہے یا حلال اور حرام چیزوں کے لیے مشترکہ برتن استعمال ہوتے ہیں، تو ایسے ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے سے اجتناب ضروری ہے۔

مقام
چین
تاریخ اور وقت
اپریل 03, 2026 @ 10:29صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں