مجلس کی باتیں دوسروں تک پہنچانا خیانت ہے

زمره
حقوق و آداب معاشرت
فتوی نمبر
0313
سوال

ہم کچھ ساتھی ایک مجلس میں بیٹھے تھے، آپس میں کسی معاملے پر کچھ تبادلہ خیال ہوا۔ مجلس کے آخر میں ایک شخص نے کہا: ”جو باتیں اس مجلس میں ہوئیں ہیں، وہ امانت ہیں، کوئی بندہ اس امانت میں خیانت نہ کرے۔ جو خیانت کرے گا، وہ مسلمان نہیں ہو گا۔“ اس مجلس میں سے ایک شریک نے خیانت کی۔ شرعی لحاظ سے اس کے ساتھ تعلق لین دین و دیگر دنیاوی معاملات رکھنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

​مجلس کی باتوں کی حفاظت ہر شریکِ مجلس کا ایک اَخلاقی فریضہ ہے اور وہ امانت بھی ہے۔ خاص طور پر لوگوں کی ذاتی زندگی، منصوبوں اور خیالات سے متعلق گفتگو یا ہر وہ گفتگو جسے وہ راز میں رکھنا چاہتے ہوں، بشرطیکہ وہ گفتگو فتنہ وفساد یا کسی کے نقصان کا باعث نہ ہو، ان کی اجازت کے بغیر دوسروں تک پہنچانا خیانت ہے۔ اگر کسی شخص سے ایسی خیانت سرزد ہوجائے تو اس کو چاہیے کہ اللّٰہ تعالیٰ سے توبہ کرے اور مُتعَلقہ افراد سے بھی معذرت کرے۔ دوسری طرف مُتاثّرَہ فریق کو بھی چاہیے کہ وہ عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے معاملے کو ختم کرے اور اس شخص کو حکمت و محبت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرے۔ البتہ وہ باتیں جو راز کے زمرے میں نہیں آتیں، انہیں دوسروں تک پہنچانے میں کوئی حرج نہیں، جیسے شرعی احکام، انسانی فلاح سے متعلق گفتگو، تاریخی حقائق اور سیرت کے سبق آموز واقعات وغیرہ۔

مقام
بھکر
تاریخ اور وقت
اپریل 02, 2026 @ 07:49شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں