استخارہ کے متفرق مسائل

زمره
عبادات و اخبات الٰہی
فتوی نمبر
0312
سوال

(1) استخارہ کی حکمت، حکم اور اس کا طریقہ کیا ہے؟
(2) کن امور میں استخارہ کیا جاسکتا ہے؟
(3) کیا کسی اور سے بھی استخارہ کرایا جاسکتا ہے؟​

جواب

(1) زمانہ جاہلیت میں لوگ جب نکاح، تجارت یا سفر جیسے اہم معاملات میں کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتے، تو تیروں کے ذریعے فال نکالتے اور ان تیروں کے نتائج کو تقدیرِ الٰہی قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے کہ ”میرے رب نے مجھے فلاں کام کا حکم دیا ہے یا فلاں کام سے روک دیا ہے“۔ ان کی یہ سوچ پھر اس پر عمل محض وہم و گمان پر مبنی اور ایک طرح سے اللہ تعالیٰ پر بہتان تھا، اس لیے نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔ اس کے متبادل میں، آپ ﷺ نے استخارہ کی تعلیم دی، تاکہ بندہ براہِ راست اللّٰہ تعالیٰ سے خیر و بھلائی کی دعا مانگے اور صحیح فیصلے کے لیے رہنمائی حاصل کرے۔ (مستفاد ؛ حجۃ اللہ البالغہ، 2 /69) ​
استخارہ کرنا مسنون عمل ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ مُستَخِیر (استخارہ کرنے والا) سونے سے قبل دو رکعت نماز نفل پڑھے : پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ کافرون اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعدسورۂ اخلاص پڑھنا افضل ہے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد اللہ تبارَک و تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اپنی حاجت کو ذہن میں رکھ کر توجہ اور اہتمام سے یہ دعا پڑھے :

  • ”اَلْلّٰهُمَّ اِنِّیْ أَسْتَخِیْرُكَ بِعِلْمِكَ وَ أَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَ أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِیْمِ، فَاِنَّكَ تَقْدِرُ وَ لاَ أَقْدِرُ، وَ تَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ ، وَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ. اَلْلّٰهُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِهٖ وَ آجِلِهٖ فَاقْدِرْهُ لِیْ وَ یَسِّرْهُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْهِ، وَ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ شَرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِهٖ وَ آجِلِهٖ ، فَاصْرِفْهُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْهُ، وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ أَرْضِنِیْ بِهٖ۔“

دعا کرتے وقت جب ”هٰذَا الْأَمْر“ پر پہنچے تو جس چیز کے لیے استخارہ کر رہا ہے، اس کا خیال کرے۔ دعا سے فراغت کے بعد، باوضو قبلہ رخ ہوکر سوئے۔ بہتر ہے کہ یہ عمل سات دن تک دہرائے۔ ان شاء اللّٰہ تعالیٰ اس کی برکت سے ذہنی الجھن ختم ہو جائے گی۔ مکمل اطمینان اور شرح صدر نصیب ہوگا۔

(2) ہر جائز و مباح کام میں استخارہ کیا جاسکتا ہے، جیسے رشتہ کرنا، شراکت داری، ملازمت یا عہدہ قبول کرنا یا کوئی پیشہ اختیار کرنا وغیرہ۔ البتہ ایسے کام جن کے کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے یا جن کاموں سے شریعت نے روکا ہے، ان میں استخارہ کرنا جائز نہیں، جیسے: نماز، والدین کی خدمت، شراب نوشی، سودی معاملات وغیرہ۔

(3) اللہ تعالی کے حضور اپنی حاجت کے لیے تڑپ، اضطراب اور احساس کی ترجمانی کوئی اور زبان نہیں کرسکتی۔ نیز استخارہ کی دعا کا ہر لفظ بندے کے اپنے خالق سے براہِ راست تعلق کا پتہ دیتا ہے، اس لیے کسی اور سے استخارہ کرانا اس عمل کی روح اور اصل مقصد کے خلاف ہے۔

مقام
فیصل آباد
تاریخ اور وقت
اپریل 01, 2026 @ 01:53صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں