ایک ہی عورت کے ساتھ دو بار نکاح کرنا

زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0324
سوال

ہمارے ہاں ایک نکاح منگنی کے ساتھ ہوتا ہے جس میں گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کیا جاتا ہے اور مولانا صاحب خطبہ پڑھتے ہیں اور حق مہر بھی مقرر کیا جاتا ہے۔ جب کہ دوسرا نکاح رخصتی کے بعد ہوتا ہے۔ پہلے نکاح کو سال گزرنے کے بعد خاوند نے بیوی کو تین بار کہا ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“۔ اب جب رخصتی کا وقت آیا تو خاوند کہتا ہے کہ میری اپنی بیوی ہے، طلاق نہیں دیتا۔ اب لوگوں کے درمیان بحث و مباحثہ جاری ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ پہلا نکاح ہوگیا اور اس کی بیوی کو طلاق ہوگئی تو اب دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا، جب کہ بعض کہہ رہے ہیں کہ جب پہلا نکاح معتبر نہیں تو طلاق بھی نہیں ہوئی۔ اصل تو رخصتی والا نکاح ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں شریعت کیا کہتی ہے؟

جواب

اگر پہلے نکاح کو ختم کرنے والی کوئی چیز نہ پائی گئی ہو تو دوسرا نکاح کرنے کی حاجت نہیں ہوتی۔ ہاں! اگر احتیاطاً دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو کوئی حرج نہیں، لیکن اس کو لازم سمجھنا درست نہیں۔          صورت مسئولہ میں نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے جب خاوند نے اپنی بیوی کو تین علیحدہ جملوں میں طلاق دی تو اس کی بیوی پر ایک طلاق بائنہ واقع ہوگئی، بشرطیکہ خلوتِ صحیحہ (بغیر کسی رکاوٹ کے، تنہائی میں ملاقات) نہ ہوئی ہو۔ اس صورت میں باقی طلاقیں کالعدم شمار ہوں گی اور بیوی پر عدت گزارنا بھی ضروری نہیں۔ طلاق کے بعد، اگر مرد و عورت دوبارہ رہنا چاہیں، تو دو گواہوں کی موجودگی میں، از سر نو حقِ مہر مقرر کرنے کے ساتھ نکاح کرنا ضروری ہے۔ اور آئندہ زندگی میں اس عورت کے لیے، شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا۔ لیکن اگر رخصتی سے پہلے خلوتِ صحیحہ ہوئی تھی، تو اس صورت میں بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی۔ اب آئندہ کے لیے ان کا میاں بیوی بن کر رہنا حرام ہے۔ مذکورہ عورت عدت گزانے کے بعد کسی اور جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

مقام
کرک
تاریخ اور وقت
مارچ 31, 2026 @ 09:36صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں