کسی کو ثالث بنانے کے لیے فریقین کی رضامندی ضروری ہے

زمره
حقوق و آداب معاشرت
فتوی نمبر
0306
سوال

خالد اور زاہد میں زمین کا تنازعہ پیش آیا۔ دونوں نے زمین کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا۔ پھر دونوں نے تنازعہ حل کرنے کے لیے عمر کو ثالث بنایا، تاکہ شریعت کی روشنی میں اس معاملے کو حل کریں۔ بعد میں جب فیصلے کا وقت آیا تو فیصلہ سنانے سے تھوڑا پہلے خالد نے عمر کو ثالث ماننے سے انکار کر دیا، لیکن اس کے باوجود عمر نے خالد کے خلاف زاہد کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ کیا یہ فیصلہ شریعت کے ہاں نافذ العمل ہے یا نہیں؟ اور یہ بھی بتائیں کہ خالد کا عین فیصلے کے وقت عمر کو ثالث نہ ماننا کیسا ہے؟ اور یہ کہ زاہد اس زمین کا مالک بن جائے گا یا نہیں؟ شرعی حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔

جواب

ثالث کے فیصلے کے نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ فریقین رضامندی کے ساتھ اس کو اپنے متنازعہ مسئلے میں فیصل قبول کریں۔ اور اگر قبل از فیصلہ اگر چہ تھوڑی دیر پہلے ہو، فریقین میں سے کسی ایک نے بھی اپنی عدم رضامندی ظاہر کر دی تو اس ثالث کا فیصلہ نافذ العمل نہ ہوگا۔

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
مارچ 29, 2026 @ 12:21شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں