فتوی نمبر
سوال
میں شادی شدہ ہوں اور تین بچوں کا باپ ہوں۔ کچھ سالوں سے میں ایک دوسری عورت سے محبت کرتا ہوں، جو خود بھی شادی شدہ ہے اور پندرہ سالہ بچی کی ماں ہے۔ وہ عورت میرے سالے کی بیوی بھی ہے۔ اس کے اپنے شوہر کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں اور اس کا شوہر ملک سے باہر ہے۔ وہ عورت اپنے شوہر سے طلاق لے کر مجھ سے نکاح کرنا چاہتی ہے۔ میں قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی چاہتا ہوں کہ کیا یہ جائز ہے؟ طلاق لینے میں میری طرف سے کوئی دباؤ نہیں ہے، لیکن کسی عورت کا مجھ سے یا کسی اور مرد سے نکاح کرنے کے لیے طلاق لینا شرعاً کیسا ہے؟
جواب
دیکھنا چاہیے کہ طلاق کے مطالبے کی اصل وجہ کیا ہے؟ اگر زوجین سے باہمی حقوق تلف ہو رہے ہیں تو ان کو چاہیے کہ ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں تاکہ ہر ممکن حد تک نباہ کی صورت بنے اور طلاق کی نوبت نہ آئے۔ بغیر کسی وجہ کے طلاق کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’جو عورت بغیر کسی مجبوری کے اپنے شوہر سے طلاق کا سوال کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔‘‘ (1)
نیز کسی کے ہنستے بستے گھر کو اجاڑنا کہ نوبت طلاق تک پہنچے یا کسی بھی طرح سے بالواسطہ یا بلا واسطہ اس کا سبب بننا بہت بڑا گناہ ہے۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ:
’’جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر سے یا غلام کو مالک سے برگشتہ (دور) کرے وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ (2)
لہذا سائل کو چاہیے کہ اس عورت کی خیرخواہی کے جذبے سے فہمائش کرے اور اسے اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ اپنی ازدواجی زندگی کو بہتر انداز میں نبھائے اور کسی بھی صورت نکاح کے رشتے کو توڑنے کی کوشش نہ کرے۔ نیز اگر اس کے شوہر کی طرف سے کسی قسم کی کوتاہی پائی جاتی ہو تو اس سے بھی مناسب طریقے سے بات کرکے بیوی کے حقوق و فرائض کی ادائیگی کی طرف متوجہ کرے۔
خلاصہ یہ ہے کہ سائل کی توجہ میاں بیوی کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے پر ہونی چاہیے، نہ کہ عورت کے غلط رویے کی حوصلہ افزائی پر۔
نیز یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ سالے کی بیوی سائل کے لیے غیر محرم ہے، اس سے اس طرح کی بات چیت اور میل جول کہ جس سے فتنہ کا اندیشہ ہو یا میاں بیوی کے تعلقات آپس میں خراب ہوں شرعاً جائز نہیں ہے، لہذا اس طرح کے تعلق کو فوراً ختم کردیا جائے اور سابقہ تعلق پر اللہ کے حضور ندامت اور توبہ کی جائے۔
(1) السنن لابی داؤد، کتاب تفریع ابواب الطلاق، باب فی الخلع، رقم: 2226
(2) السنن لابی داؤد، كتاب تفریع ابواب الطلاق، باب في من خبب امرأة على زوجها، رقم: 2175
