طلاق کی تعداد میں نیت کا اعتبار ہوتا ہے یا الفاظ کا؟

زمره
نکاح و طلاق
فتوی نمبر
0295
سوال

مفتی صاحب! ایک مسئلے کی وضاحت اور فتویٰ مطلوب ہے:

میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا جس میں شوہر نے طلاق کے الفاظ ادا کیے۔ شوہر نے دل میں تین طلاقوں کا سوچا تھا، لیکن زبان سے صرف دو مرتبہ طلاق کے الفاظ ادا کیے اور تیسری مرتبہ کہنے سے پہلے ہی اپنی جگہ سے اٹھ کر چلا گیا۔ اس وقت وہاں کوئی گواہ موجود نہیں تھا۔ بعد میں شوہر کو یہ شک (Confusion) ہو گیا کہ شاید تین ہو گئی ہیں، چنانچہ احتیاطاً عدت کے دوران رجوع بھی کر لیا گیا اور پھر دوبارہ نکاح بھی کر لیا گیا۔ اب شوہر کو مکمل یقین ہے کہ اس نے زبان سے صرف دو مرتبہ ہی طلاق کہی تھی۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

(1) کیا طلاق اس تعداد پر واقع ہوتی ہے جو دل میں سوچی گئی ہو، یا اس پر جو زبان سے ادا کی گئی ہو؟

(2) کیا اس صورت میں (جبکہ زبان سے طلاق کا لفظ صرف دو بار کہا گیا) طلاقِ مغلظہ واقع ہوئی ہے یا رجعی؟ طلاق کے الفاظ یہ تھے”میں طلاق دیتا ہوں“۔

(3) کیا ہمارا کیا گیا رجوع اور دوبارہ نکاح شرعی طور پر درست ہے اور ہم میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں؟

براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

 (1) طلاقِ بائن کے الفاظ میں نیت کے اعتبار سے طلاق کی تعداد متعین کی جاتی ہے، جب کہ طلاقِ رجعی کے الفاظ میں نیت کا اعتبار نہیں ہوتا، بلکہ جتنی مرتبہ الفاظِ طلاق کہے جائیں، اتنی ہی طلاقیں واقع ہوتی ہیں۔

(2،3) ”میں طلاق دیتا ہوں“، طلاقِ رجعی کے الفاظ ہیں۔ چونکہ یہ الفاظ دو مرتبہ کہے گئے، اس لیے دو طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ بعد میں عدت کے اندر کیا گیا رجوع درست اور معتبر ہے، اس کے لیے نئے نکاح کی ضرورت نہیں تھی۔ لہٰذا آپ دونوں بدستور میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں، البتہ اب شوہر کے پاس زندگی میں تین کے بجائے، صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہے اور اس کے استعمال کی صورت میں زوجین کے مابین تعلق ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا اور رجوع یا تجدید نکاح کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ 

مقام
اسلام آباد
تاریخ اور وقت
مارچ 19, 2026 @ 06:43شام
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں