قسطوں پر خریدے گئے پلاٹوں پر زکوۃ

زمره
زکوٰۃ و صدقات
فتوی نمبر
0294
سوال

میں نے قسطوں پر دو پلاٹ خریدے۔ قسطوں کی ادائیگی ابھی باقی ہے۔ اس کے ساتھ ایک زرعی غیر آباد قطعہ انویسٹمنٹ کے لیے لیا تھا، جو کہ تاحال غیر آباد ہے۔ گھر میں موجود سونا تقریباً اڑھائی تولے ہے۔ ان املاک پر زکوۃ کی ادائیگی کس طرح کروں؟ رہنمائی کی درخواست ہے۔

جواب

​واضح رہے کہ سونے، تجارتی اثاثوں اور نقد رقم کی سال بھر، اپنی ملکیت میں رہنے کی صورت میں زکوۃ کا شرعی نصاب ساڑھے سات تولہ سونا ہے۔ صورۃ مسئولہ میں مستفتی اڑھائی تولہ سونے کا مالک ہے، اس کے علاوہ اگر اس نے دونوں پلاٹ یا ان میں کوئی ایک بیچ کر، نفع حاصل کرنے کی غرض سے خریدے ہیں، تو اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمت لگائی جائے گی، پھر اس رقم سے موجودہ سال میں جتنی اقساط کی ادائیگی واجب الذمہ ہے، ان کو منھا (منفی) کیا جائے گا، اس کے علاوہ انویسٹمنٹ کے لیے جو زرعی قطعہ لیا گیا تھا، موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق اس کی قیمت کا بھی تعین کیا جائے گا ، مزید برآں اگر نقد رقم بھی ملکیت میں ہو تو ان تمام (اثاثوں اور رقم) کو جمع کیا جائے گا، اگر ان کی کل مالیت (اڑھائی تولہ سونے کے علاوہ) پانچ تولے سونے یا زائد کی مالیت کو پہنچتی ہو، تو فرضیت زکوٰۃ کا شرعی نصاب ( ساڑھے سات تولہ سونا) مکمل ہونے کی وجہ سے اس پر اڑھائی فیصد (٪2.5) زکوۃ کی ادائیگی فرض ہوگی۔

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
مارچ 18, 2026 @ 10:11صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں