زمره
فتوی نمبر
سوال
ایک شخص کے پاس کچھ نقد رقم ہے اور کچھ رقم پراویڈنٹ فنڈ کی صورت میں کمپنی کے پاس جمع ہے، جہاں وہ ملازمت کرتا ہے، لیکن جب چاہے نکلوا سکتا ہے۔ اور اس کی بیوی کے پاس 3 تولہ سونا ہے۔ ان سب کی مجموعی مالیت ساڑھے سات تولہ سونے کے برابر ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بیوی کی ملکیت میں جو سونا ہے، اس کی زکوٰۃ شوہر ادا کرے گا؟ کیا پراویڈنٹ فنڈ پر بھی زکوٰۃ ادا کرنی پڑے گی؟
جواب
شوہر اور بیوی میں سے کوئی ایک جب نصاب کا مالک بن جائے، تو اس کی زکوۃ بھی اسی کے ذمہ ہوتی ہے، لہذا اگر بیوی کی ملکیت میں صرف تین تولے سونا اور شوہر کی ملکیت میں ساڑھے سات تولے سونے سے کم رقم ہے، تو ان میں سے کسی پر زکوۃ فرض نہیں۔ نیز پراویڈنٹ فنڈ کی رقم پر چوں کہ مکمل قبضہ اور تصرف حاصل نہیں ہوتا، اس لیے اس پر بھی زکوۃ فرض نہیں ہوتی، البتہ جب وہ شخص پراویڈنٹ فنڈ کی رقم نکلوا لے اور وہ ساڑھے سات تولے سونے کی قیمت کو پہنچتی ہو، تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوۃ فرض ہوگی۔
