شوہر اور بیوی کے اموال کو ملا کر اگر مالیت نصاب کو پہنچ جائے تو زکوۃ کا حکم

زمره
زکوٰۃ و صدقات
فتوی نمبر
0282
سوال

ایک شخص کے پاس کچھ نقد رقم ہے اور کچھ رقم پراویڈنٹ فنڈ کی صورت میں کمپنی کے پاس جمع ہے، جہاں وہ ملازمت کرتا ہے، لیکن جب چاہے نکلوا سکتا ہے۔ اور اس کی بیوی کے پاس 3 تولہ سونا ہے۔ ان سب کی مجموعی مالیت ساڑھے سات تولہ سونے کے برابر ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بیوی کی ملکیت میں جو سونا ہے، اس کی زکوٰۃ شوہر ادا کرے گا؟ کیا پراویڈنٹ فنڈ پر بھی زکوٰۃ ادا کرنی پڑے گی؟

جواب

​شوہر اور بیوی میں سے کوئی ایک جب نصاب کا مالک بن جائے، تو اس کی زکوۃ بھی اسی کے ذمہ ہوتی ہے، لہذا اگر بیوی کی ملکیت میں صرف تین تولے سونا اور شوہر کی ملکیت میں ساڑھے سات تولے سونے سے کم رقم ہے، تو ان میں سے کسی پر زکوۃ فرض نہیں۔ نیز پراویڈنٹ فنڈ کی رقم پر چوں کہ مکمل قبضہ اور تصرف حاصل نہیں ہوتا، اس لیے اس پر بھی زکوۃ فرض نہیں ہوتی، البتہ جب وہ شخص پراویڈنٹ فنڈ کی رقم نکلوا لے اور وہ ساڑھے سات تولے سونے کی قیمت کو پہنچتی ہو، تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوۃ فرض ہوگی۔

مقام
چکوال
تاریخ اور وقت
مارچ 10, 2026 @ 09:44صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں