بیوہ، دو بیٹیوں، دو حقیقی بہنوں، ایک باپ شریک بہن اور چار بھائیوں میں تقسیمِ ترکہ

زمره
وصیت و میراث
فتوی نمبر
0279
سوال

ایک شخص مسمی خلیل احمد فوت ہوا، درجِ ذیل ورثا اس کی وفات کے وقت موجود تھے: ایک بیوہ، دو بیٹیاں، دو حقیقی بہنیں، باپ شریک چار بھائی اور ایک بہن ہیں۔ متوفی کی والدہ اور ان باپ شریک بھائیوں اور بہن کی والدہ الگ الگ ہیں۔ متوفی کی جائیداد شریعت کی رُو سے کیسے تقسیم ہوگی؟

جواب

میت کے مال میں سے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات کے بعد اس پر موجود قرض کی ادائیگی کی جائے گی۔ اور اگر کوئی وصیت ہے تو اس کے تہائی مال میں وصیت جاری کرنے کے بعد متوفی خلیل احمد کی کل جائیداد کے 48 حصص ہوں گے۔ بیوہ کو 6 اور ہر ایک بیٹی کو 16، 16 اور دونوں حقیقی بہنوں میں سے ہر ایک کو 5، 5 حصے ملیں گے۔ جب کہ باپ شریک بھائیوں اور بہن کو شرعی طور پر متوفی خلیل احمد کی میراث میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔

مقام
چیچہ وطنی
تاریخ اور وقت
مارچ 10, 2026 @ 04:08صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں