زمره
بیوعات و معاملات
فتوی نمبر
0275
سوال
زید نے عمر سے اُدھار مال خریدا، فریقین کے مابین یہ طے پایا کہ اس مال کی کل قیمت دس ہزار روپے ہے اور یہ قیمت ایک ماہ میں ادا کی جائے گی۔ اور اگر ایک ماہ کے اندر یہ قیمت ادا نہ کی گئی تو مبلغ پانچ سو روپے مزید ادا کرنے ہوں گے۔ اور ایسے ہی جتنے ماہ تاخیر ہوتی جائے گی، ہر ماہ پانچ سو روپے کے حساب سے، اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ کیا شرعاً یہ کاروبار جائز ہے؟
جواب
تجارت میں اس طرح طے کرنا کہ وقتِ مقررہ پر قیمت ادا نہ کرنے کی صورت میں مقررہ اضافہ بھی ادا کرنا ہوگا، درست نہیں ہے۔ اس کی حرمت پر فقہا کا اتفاق ہے۔ اور دین اسلام سے قبل عرب میں سود کی یہی صورت زیادہ مروج تھی۔
مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
مارچ 09, 2026 @ 03:32شام
ماخذ
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں
