بیع کے وقت قیمت طے ہوجانے کے بعد مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے اس میں کمی بیشی کرنے کا حکم

زمره
بیوعات و معاملات
فتوی نمبر
00267
سوال

(1) بائع اور مشتری کے درمیان 10 کلو دودھ کی قیمت 2000 روپے طے پائی کہ بائع چند دن بعد مشتری کو 10 کلو دودھ فراہم کرے گا۔ اگلے دن دودھ کی قیمت فی لٹر 20 روپے بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں 10 لٹر دودھ کی مجموعی قیمت 2200 روپے بنتی ہے۔ دودھ کا ریٹ بڑھ جانے کے سبب بائع طے شدہ رقم یعنی 2000 واپس کرنا چاہتا ہے، جبکہ مشتری کرنٹ مارکیٹ ویلیو کے مطابق دودھ کی رقم یعنی 2200 لینے پر اصرار کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
(2) اسی طرح چھ ماہ یا سال بعد قبضہ کی شرط پر ایک مخصوص قیمت پر بائع نے مشتری کو پراپرٹی فروخت کردی اور سال بعد اس پراپرٹی کی مارکیٹ ویلیو دگنی ہوگئی تو کیا بائع کے لیے ریٹ میں اضافہ کرنا شرعاً جائز ہے؟​

جواب

(1) خرید و فروخت کے وقت جب فریقین باہمی رضامندی سے کسی چیز کی قیمت پر اتفاق کرلیں اور معاملہ حتمی ہوجائے، تو بعد میں بازار کے نرخ کم یا زیادہ ہوجانے کا اعتبار نہیں ہوتا۔ چناں چہ فروخت کرنے والا (بائع) طے شدہ چیز فراہم کرنے اور خریدار (مشتری) مقررہ رقم ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں معاملہ طے ہوجانے کے بعد بائع پر لازم ہے کہ وہ دس کلو دودھ 2000 روپے میں ہی فراہم کرے، قیمت بڑھ جانے کے سبب وہ یک طرفہ سودا منسوخ نہیں کرسکتا، اسی طرح مشتری بھی 2200 کا مطالبہ نہیں کر سکتا، کیوں کہ عقد 2000 روپے پر ہوا ہے۔ البتہ اگر مشتری، بائع کا خیال رکھتے ہوئے 10 کلو دودھ کی قیمت 2200 ادا کردے یا پھر دونوں باہمی رضامندی سے نیا معاملہ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔
(2) مذکورہ بالا مسئلے کی طرح یہاں بھی بائع کے لیے پراپرٹی کی مارکیٹ ویلیو دگنی ہونے کے سبب قیمت میں اضافہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

مقام
لاہور
تاریخ اور وقت
مارچ 05, 2026 @ 11:49صبح
ٹیگز
کوئی ٹیگ نہیں